Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم

Subscribe to Updates

Get the latest creative news from FooBar about art, design and business.

What's Hot

لہو سے اپنے جس نے گلشن وطن سنواردیا۔کیپٹن عثمان شہیدکی داستان شجاعت

نومبر 2, 2026

عوام کو 15 روپے لٹر سستا پٹرول فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: علی پرویز

نومبر 2, 2026

پاکستان میں مہنگائی کی سالانہ شرح 9.61 فیصد تک پہنچ گئی

نومبر 2, 2026
Facebook X (Twitter) Instagram
پیر, نومبر 2
Facebook X (Twitter) Instagram
English
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • ملٹی میڈیا
  • کالم
Home»پاکستان»لہو سے اپنے جس نے گلشن وطن سنواردیا۔کیپٹن عثمان شہیدکی داستان شجاعت
پاکستان

لہو سے اپنے جس نے گلشن وطن سنواردیا۔کیپٹن عثمان شہیدکی داستان شجاعت

EditorBy Editorنومبر 2, 2026Updated:نومبر 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email
  • تحریر:عبدالستاراعوان

"کیپٹن عثمان علی کیڈٹ کالج بٹراسی کے پہلے شہید افسر اور آزاد کشمیر رجمنٹ کے قابل فخرسپوت تھے۔میجر عزیز بھٹی ان کی آئیڈیل شخصیت تھے۔وہ بچپن میں صحن میں کھیلتے ہوئے والدین سے معصومانہ خواہش کا اظہار کرتے کہ میں بڑا ہو کر میجر عزیز بھٹی بنوں گا۔ شہید کے والدین اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہیں توا ن کی آنکھیں ساون کی طرح برسنے لگتی ہیں اور وہ گہری سوچوں میں گم ہو جاتے ہیں ۔ اتنا صدمہ ہونے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ شہید کے والد کامعمول ہے کہ وہ روزانہ صبح سویرے شہید کی آخر ی آرام گاہ پر حاضری دیتے ہیں، تازہ پھول ڈالتے ہیں اور پانی کا چھڑکاوکرتے ہیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ انہوں نے شہید کی آخری آرام گاہ کو خوبصورت انداز میں تعمیر کر واکر اس پر سبز ہلالی پرچم لہرایا ہے ۔ اس مرقد پر دور سے ہی لوگوں کی نظر پڑتی ہے تووہ والہانہ انداز میں اس مرد مجاہد کو خراج تحسین پیش کرنے لگتے ہیں”۔

شہید سلالہ چیک پوسٹ کیپٹن محمد عثمان علی کے چھوٹے بھائی روبان علی اور ان کے کزن حافظ سمیر ’’ہلال ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کی داستان شجاعت بیان کر رہے تھے اور ہم سوچ رہے تھے کہ ایسے ہونہار اور سجیلے جوان کیا صرف تنخواہ کی خاطر اپنی جان جیسی قیمتی ترین متاع قربان کر دیتے ہیں؟؟ہرگزنہیں بلکہ ان کے اندر جذبہ حُب الوطنی اور ایک ایسا نظریہ ہوتا ہے جو انہیں وطن کی آن بان اور شان پر جان کی بازی لگادینے پر آمادہ کرتا ہے ۔ اُن والدین کو بھی سلام ہے جو اپنے ایسے خوبصورت بیٹوں کو دفاعِ وطن کے لیے پیش کرتے ہیں ۔یہ تاریخ کا سچ ہے کہ اپنے ملک پر جان قربان کرنے والے محافظ ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں اوران کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے بھی عزم، حوصلے، وفاداری اور حُب الوطنی کی روشن مثال بن جاتی ہیں۔شہید وہ عظیم انسان ہوتا ہے جو اپنے دین، وطن اورقوم کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر تا ہے۔ اس کی قربانی ایک فرد کی نہیں پوری قوم کی آزادی، سلامتی اور عزت کی ضمانت ہوتی ہے۔اسلام میں بھی شہید کو بلند ترین درجات عطا کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ شہید زندہ ہوتا ہے اور اپنے رب کے ہاں رزق پاتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے شہیدوں ،مجاہدوں اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھتی ہیں وہ عزت، استحکام اور سربلندی کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔ شہدا کا احترام اور ان کے بچوں، اہلِ خانہ کی قدر کرنا ہم سب کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اور ہم پر یہ قرض ہے کہ ہم اپنے شہیدوں اور غازیوں کی داستانوں کودہراتے رہیں اور آنے والی نسلوں کو ان کے کارناموں سے آگاہ کر تے رہیں۔

کیپٹن محمد عثمان علی نے پاک افغان بارڈر پر سلالہ چیک پوسٹ کے مقام پر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔25 اور 26 نومبر 2011 کی درمیانی شب افغانستان سے نیٹو فورسز نے پاک فوج کی سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھاجس کے نتیجے میں پاک فوج کے دو افسروں سمیت24جوان شہید ہوئے تھے۔شہید ہونے والوں میں میجر مجاہد علی میرانی،کیپٹن عثمان ، صوبیدار عبدالمنان،لانس نائیک رضا محمد،لانس نائیک طارق محمود،حوالدار ممتاز، حوالداراسلم،حوالدار مشتاق،سپاہی عمران یوسف،سپاہی رضوان،سپاہی غلام عباس،سپاہی عبدالرزاق، سپاہی حافظ منظور احمد،سپاہی اصغر عباس،سپاہی احمد خورشید،سپاہی ابراہیم،سپاہی نعیم،سپاہی طارق محمود،سپاہی ناصرمحمود،سپاہی کرامت علی،سپاہی نجیب اللہ اور سپاہی طاہر محمود سمیت دیگر اہلکار شامل تھے۔اس حملے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے دوسرے افسر میجر مجاہد علی میرانی تھے۔ وہ 2000میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر پاک فوج میں شامل ہوئے۔ شہادت سے ایک سال قبل انہوں نے میجر کے عہدے پر ترقی پائی اورشہادت سے ڈیڑھ ماہ قبل وہ مہمند ایجنسی میں تعینات ہوئے تھے۔سلالہ چیک پوسٹ مہمند ایجنسی کی تحصیل بازئی میں آٹھ ہزار فٹ بلندی پرواقع ہے ۔ میجر عمر نیازی اُ ن دنوں مہمند ایجنسی میں تعینات تھے ،انہوں نے بتایا کہ جب چیک پوسٹ پر حملہ ہوا تو جانی نقصان کے ساتھ ساتھ چوکی بھی مکمل تباہ ہو گئی تھی۔ بعد میں سلالہ چوکی کو ازسرنو تعمیر کیا گیا، وہاں قلعہ بنایا گیا اور سامان کی ترسیل کے لیے بلند پہاڑ پر ٹریک بھی بنایا گیا۔چیک پوسٹ کے اس پار افغانستان کا علاقہ کنڑ واقع ہے ۔

شہید کے بھائی روبان علی نے بتایا کہ کیپٹن محمد عثمان علی28فروری1988ء کو محمد بشیر احمد کے ہاں ساہیوال میں پیدا ہوئے۔پانچویں جماعت تک تعلیم رحمانیہ جونیئر ماڈل سکو ل ساہیوال سے حاصل کی ۔آٹھویں کا امتحان طارق بن زیادسکول سے پاس کیااوراسی ادارے سے انہوں نے کیڈٹ کورس کی تیاری بھی شروع کی۔اسی وجہ سے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے سکاوٹس کالج بٹراسی میں داخلہ مل گیا ۔عثمان بہت ذہین تھے، تعلیم کے ساتھ ساتھ سپورٹس سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے ۔انہوں نے ایک سال میں دو دو کلاسز کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے۔وہ سپورٹس میں بہت حصہ لیتے اور ان کا پسندیدہ کھیل رگبی تھا، وہ رگبی کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔وہ ایک اچھے تیراک بھی تھے اوربیڈمنٹن بھی کھیلتے ۔ ان کی تعلیمی کارکردگی بہت اچھی تھی۔ و ہ شروع سے ہی رائیزنگ سٹار تھے۔ انہوں نے چھوٹی سی عمر میں بہت سی اچیومنٹس حاصل کیں، جلد ازجلد اپنی سٹڈی مکمل کی۔

1995ء میں جب ان کا بٹراسی کیڈٹ کالج میں ایڈمشن ہواتو وہ بہت زیادہ خوش تھے ۔ایف ایس سی تک اسی ادارے میں زیر تعلیم ر ہے۔ 2005ء میں انہوں نےISSBکا ٹیسٹ کلیئر کیا اورانہیں پی ایم اے کاکول میں کمیشن مل گیا۔دوسالہ ٹریننگ کے بعدانہیں آزادکشمیر رجمنٹ میں تعینات کیا گیا۔ ان کی پہلی پوسٹنگ لاہور میں ہوئی اور چند ماہ بعد انہیں سوئی بلوچستان بھیج دیا گیا ۔ دوسال بعد ان کی یونٹ کھاریاں چلی گئی اور اسی دوران ان کے دو کورسز آگئے ۔ کچھ عرصہ کھاریاں میں بطور ایڈجوٹینٹ رہے اور چند ماہ بعد وہ کیپٹن کے عہدے پر ترقی پا گئے۔جس دن ان کی شادی کی مہندی کی تقریب تھی اسی دن وہ کیپٹن کے رینک پر پروموٹ ہوئے ۔اس کے بعد ان کی یونٹ کو مہمند ایجنسی میں تعینات کر دیا گیا ۔انہوں نے اس علاقہ میں اپنے جوانوں کو فرنٹ پر لیڈ کیا اور بہادری سے وطن دشمنوں کا مقابلہ کیا۔ان دنوں مہمند ایجنسی میں حالات بہت خراب تھے ، عثمان بھائی بتایا کرتے کہ ان کی یونٹ کے پہنچتے ہی وطن دشمنوں کے ساتھ ان کی جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں ، ایک موقع پر عثمان شدید زخمی ہوئے اور ان کے ساتھی میجر شہید ہو گئے۔عثمان بھائی کو بھی دو گولیاں لگی تھیں ، تین ماہ کے لیے انہیں چھٹی بھیج دیا گیا اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد واپس محاذ پرپہنچ گئے۔ انہی دنوں اللہ کریم نے انہیں پیاری سی بیٹی سے نوازا اوروہ اپنی پیار ی بیٹی کو دیکھنے دوبارہ چھٹی آئے اور 15دن چھٹی گزار کر 13نومبر2011کوواپس گئے تو انہیں مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر بھیج دیا گیا۔14نومبر کو انہوں نے سلالہ چیک پوسٹ پر ڈیوٹی جوائن کی ۔

ان کی شہادت ملکی تاریخ کا ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔ یہ25اور26نومبر 2011کی ایک افسوس ناک رات تھی جب افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے پاک فوج کی سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا ،پہلے زمینی حملہ کیا گیا جس کا کیپٹن عثمان علی اور ان کے جوانوں نے بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا، اس کے بعد نیٹو کی طرف سے ایئر سٹرائیک ہوئی جس کے نتیجہ میں 24جوان اور دو افسرمیجر مجاہد علی میرانی اورکیپٹن عثمان علی جام شہادت نوش کر گئے ۔ کیپٹن عثمان شہید کے سسر محمد اکرم نے بھی فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا ،وہ پنجاب پولیس میں ڈی ایس پی تھے اور وہ ڈاکووں کے ساتھ ایک مقابلے میں شہید ہوئے ۔شہید کے بھائی روبان علی نے مزیدبتایا کہ عثمان شہید کی یونٹ کے افسران اور ان کے دوست آج بھی ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہمیں بہت عزت دیتے ہیں۔ان کی یونٹ ہمیں اپنی فیملی کی طرح عزیز رکھتی ہے ۔ ان کی یونٹ کے افسران ہر قومی دن کے موقع پر ہمارے ہاں آتے ہیں اور عثمان شہید کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

کیپٹن عثمان علی نے پسماندگان میں والدین ، بیوہ اور ایک بیٹی چھوڑی ہے ۔ شہادت سے صرف 13ماہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی ۔کیپٹن عثمان شہید کی نماز جنازہ ان کے آبائی شہرساہیوال کے علاقے فریدیہ پارک میں ادا کی گئی ۔پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی اورہزاروں افرادنے انہیں بڑے جذباتی انداز میں رخصت کیا ۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ بسالت عطاکیا ۔

لہوسے اپنے جس نے گلشنِ وطن سنوار دیا

اُسی نے آنے والی نسلوں کو وقار دیا

(مضمون نگار شعبہ صحافت کے ساتھ منسلک ہیں) ۔بشکریہ ھلال،راولپنڈی۔

 

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

    Related Posts

    عوام کو 15 روپے لٹر سستا پٹرول فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: علی پرویز

    نومبر 2, 2026

    انسدادِ دہشت گردی عدالت میں 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور

    نومبر 2, 2026

    نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیرِ اعظم شہبازشریف

    نومبر 2, 2026

    Comments are closed.

    Latest Posts

    حرم پاک کے کبوتر (مکہ کے یہ کبوتر اس شہر کی دیرینہ روایات کی ایک زندہ علامت ہیں)

    نومبر 2, 2026

    بھٹو کی نتھ فورس

    اکتوبر 30, 2026

    مکہ دفاعی معاہدہ: عالمِ اسلام کے نئے دفاعی دور کا آغاز، اسرائیل اور بھارت میں بھونچال

    اگست 7, 2026

    قوم کی اصل دولت

    اپریل 8, 2026

    انفارمیشن وار: خاموش محاذ، خطرناک نتائج

    فروری 24, 2026

    قوم پرستی یا قوم فروشی؟ ایک سنجیدہ سوال

    فروری 17, 2026
    Facebook X (Twitter) Pinterest Vimeo WhatsApp TikTok Instagram
    All Right Reserved © Vision Point PK 2026 . Managed by Vision Point

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.