پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکہ کی طرف سے چار پاکستانی اداروں پر پابندیوں کے حالیہ فیصلے کو غیر منصفانہ اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ پابندیاں پاکستان کے میزائل پروگرام کی حمایت کے الزام میں عائد کی گئی ہیں۔
دفتر خارجہ کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سٹریٹجک صلاحیتیں اس کی خودمختاری کے تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہیں۔ "ہمارا سٹریٹجک پروگرام ایک مقدس امانت ہے جسے ملک کے 240 ملین لوگوں نے عطا کیا ہے اور یہ سمجھوتے سے بالاتر ہے۔
دفتر خارجہ نے امریکہ کے اقدام کو علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اور واضح کیا کہ یہ پابندیاں شواہد کے بجائے قیاس پر مبنی ہیں۔ دفتر کارجہ نے بیان میں عدم پھیلاؤ کے حوالے سے امریکہ کے متضاد رویے کو ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ "کچھ ممالک کو جدید فوجی ٹیکنالوجی میں رعایت دی جاتی ہے جبکہ دوسروں کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ امتیازی رویہ عالمی امن اور سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔” دفتر خارجہ کا مزید کہناتھاکہ پاکستان نے اپنے آپ کو ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی اصولوں اور عدم پھیلاؤ کے معاہدوں پر سختی سے عمل پیرا ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیتوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
