سعودی عرب میں امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا

امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات پیر کو سعودی عرب میں دوبارہ شروع ہوئے، جن کا مقصد یوکرین تنازع میں جنگ بندی کو ممکن بنانا ہے۔

اہم نکات:

🔹 مذاکرات میں بحیرہ اسود میں جنگ بندی، فرنٹ لائن استحکام اور انسانی امداد جیسے امور زیر بحث آئے۔
🔹 امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف نے امن معاہدے کے امکانات پر مثبت اشارہ دیا، خصوصاً بحیرہ اسود میں جنگ بندی کے حوالے سے۔
🔹 مذاکرات اعتماد سازی کے اقدامات پر مرکوز ہیں تاکہ مستقبل میں جامع جنگ بندی معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
🔹 سعودی عرب نے بات چیت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں کلیدی سفارتی کردار ادا کیا۔

اہم معاملات پر بات چیت

🔸 بحیرہ اسود کی میری ٹائم سیکیورٹی: بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا۔
🔸 فرنٹ لائن پر استحکام: دونوں فریقوں کی علاقائی پوزیشنز منجمد کرنے کے ممکنہ طریقہ کار پر غور۔
🔸 انسانی امداد: روس لے جائے گئے یوکرینی بچوں کی واپسی جیسے معاملات۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کے مطابق، یہ مذاکرات مکمل جنگ بندی کی طرف پہلا قدم ہو سکتے ہیں، جہاں پہلے مرحلے میں اعتماد سازی کے اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔

سعودی عرب کا اہم سفارتی کردار

گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالعزیز ساگر نے کہا کہ ریاض نے ثالثی میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے خطے میں سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی عکاسی ہوتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے