ترکیہ میں تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے 17 افراد ہلاک، دو کو زندہ بچا لیا گیا

ترکیہ میں تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے سے 17 افراد ہلاک، دو کو زندہ بچا لیا گیا

انقرہ — ترکیہ کے سیاحتی شہر بودروم کے قریب بحیرہ ایجیئن میں ایک ربڑ کی کشتی الٹنے سے 17 غیر قانونی تارکینِ وطن ہلاک ہو گئے۔ مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب کشتی میں پانی بھرنا شروع ہوا اور چند ہی منٹوں میں وہ ڈوب گئی۔

ترکیہ کے صوبے موغلا کے گورنر آفس کے مطابق، 17 میں سے 14 افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ باقی تین کی تلاش جاری ہے۔ حکام کے مطابق دو افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے جن میں سے ایک افغان شہری بھی شامل ہے۔ ایک شخص تیر کر چیلبی جزیرے تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چار کوسٹ گارڈ کشتیاں، ایک ہیلی کاپٹر اور غوطہ خوروں کی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کشتی میں غیر قانونی تارکینِ وطن سوار تھے جو یونان کی جانب جا رہے تھے۔

بحیرہ ایجیئن کا مختصر لیکن خطرناک راستہ طویل عرصے سے تارکینِ وطن کے لیے جان لیوا سفر ثابت ہو رہا ہے۔ ترکیہ کے ساحل سے یونانی جزائر، خصوصاً ساموس، روڈس اور لیسبوس، تک سمندری فاصلہ کم ہونے کے باوجود اکثر حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) کے مسنگ مائیگرنٹس پراجیکٹ کے مطابق، رواں سال اب تک تقریباً 1,400 تارکینِ وطن بحیرہ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے