لاہور — پاکستان سپر لیگ (PSL) کے 10 سالہ فرنچائز معاہدوں کی مدت مکمل ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے نئے فرنچائز کنٹریکٹس کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بار لیگ میں دو نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا فیصلہ بھی زیر غور ہے۔
لاہور میں سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں چارٹرڈ فرم کے نمائندہ محسن اقبال اور ان کی ٹیم نے پی ایس ایل کی ویلیوایشن رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ 10 سالہ فرنچائز معاہدہ تشکیل دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق، پی سی بی نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے معاہدوں میں ٹیموں کی مارکیٹ ویلیو ازسرِنو طے کی جائے گی۔ چارٹرڈ فرم نئی فرنچائزز کی ویلیو لگانے کا عمل آئندہ چند دنوں میں مکمل کرے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے لیے اوپن بڈنگ سسٹم متعارف کرانے کی تجویز زیر غور ہے۔ موجودہ فرنچائزز میں سے صرف اہل ٹیمیں ہی نئی بولی میں حصہ لے سکیں گی۔
مالیاتی ماڈل کے مطابق، اب رقوم کا تبادلہ ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جب کہ نئی فرنچائزز کے مالکانہ حقوق بھی مقامی کرنسی میں دیے جائیں گے۔
پی سی بی ذرائع کے مطابق، کنٹریکٹ رینیول ڈرافٹ آئندہ ایک ہفتے میں فرنچائزز کو بھیج دیا جائے گا۔ جو فرنچائزز نیا معاہدہ قبول نہیں کریں گی، وہ اوپن بڈ میں حصہ لے سکیں گی۔
یاد رہے کہ پی ایس ایل کی موجودہ چھ فرنچائزز کے معاہدے دسمبر 2025 میں ختم ہو رہے ہیں، جب کہ نئے سیزن میں ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کر دی جائے گی۔
ابتدائی فرنچائزز کی قیمتیں درج ذیل تھیں:
-
کراچی کنگز: 2.6 ملین ڈالر
-
لاہور قلندرز: 2.5 ملین ڈالر
-
پشاور زلمی: 1.6 ملین ڈالر
-
اسلام آباد یونائیٹڈ: 1.5 ملین ڈالر
-
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: 1.1 ملین ڈالر
-
ملتان سلطانز (2017): 6.35 ملین ڈالر سالانہ فیس پر خریدی گئی تھی۔
