ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات جیسے مونجارو، عالمی موٹاپے کے بحران سے نمٹنے میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ان ادویات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابل رسائی بنائیں اور دوا ساز کمپنیوں سے قیمتیں کم کرنے کو کہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق گلوکاگن نما پیپٹائڈ-1 (GLP-1) ادویات، جن میں مونجارو اور اوزیمپک شامل ہیں، سنگین موٹاپے کو کم کرنے اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں جیسے ٹائپ 2 ذیابیطس، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور گردے کی بیماری کے خطرے کو گھٹانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ یہ دوائیں "موٹاپے پر قابو پانے اور اس سے متعلقہ نقصانات کو کم کرنے میں لاکھوں لوگوں کی مدد کر سکتی ہیں۔”
ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ GLP-1 ادویات خود موٹاپے کا حل نہیں ہیں اور ان کے ساتھ صحت مند خوراک، ورزش اور طرز زندگی میں تبدیلی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی رسائی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پیداواری صلاحیت، دستیابی اور استطاعت کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ادویات کی موجودہ پیداوار کی حد کے باعث، صرف تقریباً 100 ملین افراد ہی دنیا میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جبکہ 2030 تک موٹاپے کا شکار افراد کی تعداد 2 بلین تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے دوا ساز کمپنیوں کو "ٹائرڈ پرائسنگ” اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ غریب ممالک میں ان کی قیمت کم ہو اور رسائی میں اضافہ کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ادویات ایک "نیا باب” کھولتی ہیں، جس سے موٹاپے کو ایک پیچیدہ، قابل روک تھام اور علاج کے قابل دائمی بیماری کے طور پر سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ محض طرز زندگی کی وجہ سے پیدا ہونے والی حالت کے طور پر

