ڈھاکا – بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے اچانک باہر کیے جانے پر بنگلادیش میں شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ معاملے کو تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے بنگلادیش کے وزیرِ کھیل آصف نذرل نے کہا ہے کہ بنگلادیش بھی پاکستان کی طرز پر اپنے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں شیڈول کرائے۔
وزیرِ کھیل آصف نذرل کا کہنا تھا کہ مستفیض الرحمان کے ساتھ متعصبانہ سلوک کیا گیا اور انہیں حکومتی دباؤ کے تحت آئی پی ایل سے ہٹایا گیا، جو کھیل کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) آئی سی سی سے ورلڈ کپ کے دوران ٹیم کی سیکیورٹی کی واضح ضمانت حاصل کرے۔
آصف نذرل نے مزید کہا کہ اگر سیکیورٹی اور غیر جانبداری پر تحفظات برقرار رہے تو بنگلادیش کو بھی پاکستان کی طرح اپنے ورلڈ کپ کے میچز سری لنکا منتقل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
دوسری جانب، بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے اپنے فیصلے میں آئی پی ایل فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آئی پی ایل 2026 سیزن کے لیے بنگلادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اسکواڈ سے ریلیز کر دے۔
بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی جانب سے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دسمبر میں ہونے والی آئی پی ایل نیلامی کے دوران کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمان کو 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا تھا، جس کے بعد وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے بنگلادیشی کھلاڑی بن گئے تھے۔
اس اچانک فیصلے کے بعد نہ صرف بنگلادیشی کرکٹ حلقوں بلکہ شائقینِ کرکٹ کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ معاملے کے علاقائی اور بین الاقوامی اثرات پر بھی بحث جاری ہے۔
