ماسکو: روسی سکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ دمیتری میدویدیف نے واضح کیا ہے کہ ماسکو یوکرین میں مغربی ممالک یا نیٹو کے کسی بھی فوجی یونٹ کی موجودگی کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں میدویدیف نے کہا کہ “بیوقوف یورپی حکمران اب بھی یورپ میں جنگ چاہتے ہیں۔ ہزاروں بار کہا جا چکا ہے کہ روس یوکرین میں یورپی ممالک یا نیٹو کی کسی بھی فوجی یونٹ کو قبول نہیں کرے گا۔” انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی منسلک کی جس میں یوکرین کی مبینہ اہم تنصیبات پر روسی میزائل سسٹم “اوریہشنک” کے ذریعے کیے گئے حملے دکھائے گئے ہیں۔
روسی حکام کے مطابق ماسکو نے یوکرین میں “اسٹریٹجک اہداف” کو خاص طور پر بیلسٹک میزائل “اوریہشنک” کے ذریعے نشانہ بنایا ہے، جس کے وارہیڈز کی رفتار تقریباً 13 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے دسمبر کے آخر میں صدر ولادیمیر پوتین کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی یوکرینی کوشش کے جواب میں کیے گئے ہیں، تاہم کیف اور مغربی دارالحکومتوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ادھر یوکرینی سکیورٹی سروس نے جمعے کے روز ایسی تصاویر جاری کیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ “اوریہشنک” ہائپرسونک میزائل کے ٹکڑے ہیں، جو ماسکو کی جانب سے منظرعام پر لائے جانے کے بعد دوسری بار استعمال کیا گیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق یہ حملہ ملک کے مغرب میں واقع علاقے لویو میں کیا گیا، تاہم نشانہ بننے والے مقامات اور ممکنہ نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
