پی ایس ایل کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں، ڈرافٹ سسٹم ختم، آکشن متعارف
لاہور – پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے انتظامی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ٹورنامنٹ کے آئندہ یعنی گیارہویں ایڈیشن میں کھلاڑیوں کی سلیکشن روایتی ڈرافٹ سسٹم کے بجائے آکشن سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد لیگ کو عالمی معیار کے مزید قریب لانا، ٹیموں کے درمیان توازن پیدا کرنا اور کھلاڑیوں کو بہتر مالی مواقع فراہم کرنا ہے۔ آکشن سسٹم کے نفاذ سے فرنچائزز کو اپنی حکمتِ عملی کے مطابق کھلاڑی منتخب کرنے کی زیادہ آزادی حاصل ہوگی جبکہ کھلاڑیوں کی مارکیٹ ویلیو میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق نئے سیزن میں مینٹورز، برانڈ ایمبیسڈر اور رائٹ ٹو میچ جیسے تمام پرانے قوانین کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، تاکہ لیگ کو سادہ، شفاف اور مسابقتی بنایا جا سکے۔
آکشن سے قبل ہر فرنچائز کو مجموعی طور پر چار کھلاڑی ریٹین کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ ہر کیٹیگری سے زیادہ سے زیادہ ایک کھلاڑی ہی برقرار رکھا جا سکے گا۔ اس پالیسی کا مقصد کسی ایک ٹیم کو غیر معمولی برتری حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
پی ایس ایل میں شامل ہونے والی دونوں نئی فرنچائزز کو خصوصی رعایت دیتے ہوئے آکشن سے قبل چار، چار کھلاڑی منتخب کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ وہ آغاز ہی سے مسابقتی ٹیم تشکیل دے سکیں۔
اس کے علاوہ ہر فرنچائز کو ایک بین الاقوامی کھلاڑی ڈائریکٹ سائن کرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ تاہم اس کے لیے شرط مقرر کی گئی ہے کہ متعلقہ غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل 2025 ایڈیشن کا حصہ نہ رہا ہو۔
پی ایس ایل کے حالیہ اجلاس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کھلاڑیوں کے معاوضے بڑھانے کی بھرپور وکالت کی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آکشن سسٹم کے ذریعے مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو ان کی اصل مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ مل سکے گا۔
ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کا 11واں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع ہوگا۔ رواں سیزن میں کرکٹ کے شائقین کو ایک اور خوشخبری دیتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ پی ایس ایل کے چند میچز اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں بھی کھیلے جائیں گے، جو کئی برس بعد کسی بڑے بین الاقوامی معیار کے ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق پی ایس ایل میں آکشن سسٹم کا نفاذ لیگ کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو نہ صرف اس کی کمرشل ویلیو میں اضافہ کرے گا بلکہ عالمی کرکٹ میں پاکستان کی لیگ کو مزید مستحکم مقام دلانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔