اسرائیلی حملوں کے دوران غزہ میں 3 صحافیوں سمیت 8 فلسطینی شہید، لبنان پر بھی میزائل حملے

0

غزہ — اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر اپنی جارحیت جاری رکھتے ہوئے غزہ کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں تین صحافیوں سمیت کم از کم آٹھ فلسطینی شہید ہو گئے۔

غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق وسطی غزہ کے علاقے الزہرہ میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں سوار تین صحافی موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والے صحافیوں کی شناخت محمد صلاح قشطہ، انس غنیم اور عبد الرؤف شاعت کے نام سے کی گئی ہے۔

سول ڈیفنس حکام کے مطابق یہ صحافی ایک مصری امدادی تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے اور انسانی امدادی سرگرمیوں کی کوریج کے دوران نشانہ بنے۔

اسرائیلی فوج نے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حماس سے منسلک ڈرون آپریٹ کر رہے تھے اور اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔ فوج کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

تاہم اسرائیلی مؤقف کے حق میں کسی قسم کے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

غزہ بھر میں اسرائیلی توپ خانے اور فائرنگ کے نتیجے میں مزید آٹھ فلسطینی شہید ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ ان ہلاکتوں کی تصدیق حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے کی ہے۔

طبی ذرائع کے مطابق:

  • وسطی غزہ میں اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ سے تین افراد شہید ہوئے، جن میں ایک 10 سالہ بچہ شامل تھا۔

  • جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی فائرنگ سے 13 سالہ لڑکا اور ایک خاتون جان سے گئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم 466 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران فلسطینی مسلح گروہوں کے حملوں میں اس کے تین فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ادھر اسرائیل نے لبنان کے خلاف بھی ایک بار پھر جارحانہ کارروائی کی ہے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان کے قصبے الکفور میں کئی مقامات پر اسرائیلی میزائل داغے گئے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، حالانکہ یہ کارروائی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک سال قبل طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق شام اور لبنان کی سرحد پر واقع چار کراسنگز کو بھی نشانہ بنایا گیا، یہ دعویٰ کیا گیا کہ حزب اللہ ان راستوں کو اسلحہ اسمگلنگ کے لیے استعمال کر رہی تھی، تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

غزہ اور لبنان میں حالیہ اسرائیلی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدید ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے تاحال ان حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر سفارتی اقدام سامنے نہیں آ سکا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.