ممتاز شاعر مظفر وارثی کو دنیا سے رخصت ہوئے 15 برس بیت گئے
لاہور – حمد ہو یا نعت، غزل ہو یا گیت—ہر صنفِ سخن میں اپنے فن کا لوہا منوانے والے ممتاز شاعر مظفر وارثی کو دنیا سے رخصت ہوئے آج 15 برس مکمل ہو گئے۔
خوبصورت، روح پرور اور یادگار حمدیہ و نعتیہ کلام کے خالق مظفر وارثی 23 دسمبر 1933ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد مظفرالدین صدیقی تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنایا، جہاں بہت کم عرصے میں ان کا شمار صفِ اول کے شعرا میں ہونے لگا۔
مظفر وارثی کو لازوال شہرت ان کی حمد و نعت نے عطا کی۔ ان کے مشہور نعتیہ کلام میں ’’یارحمت اللعالمین‘‘، ’’لمبی بعد‘‘، ’’ورفعنالک ذکرک‘‘ اور ’’تو کجا من کجا‘‘ شامل ہیں، جبکہ حمد ’’کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے‘‘ آج بھی عقیدت مندوں کی زبان پر ہے۔
پاکستان فلم انڈسٹری میں بھی مظفر وارثی کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے تحریر کردہ فلمی گیتوں نے عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی، جن میں ’’کیا کہوں اے دنیا والو کیا کہوں میں‘‘، ’’مجھے چھوڑ کر اکیلا کہیں دور جانے والے‘‘ اور ’’یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو‘‘ شامل ہیں۔
ان کی شاندار فنی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا، جبکہ فصیح الہند اور شرف الشعرا جیسے اعزازی خطابات بھی انہیں عطا کیے گئے۔
مظفر وارثی 28 جنوری 2011ء کو لاہور میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، مگر ان کا کلام آج بھی دلوں کو منور اور روحوں کو سرشار کر رہا ہے۔