ویلنگٹن – نیوزی لینڈ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
شنہوا کے مطابق نیوزی لینڈ کے وزیرِاعظم کرسٹوفر لکسن نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ حکومت نے اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کیا، تاہم فیصلہ کیا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ موجودہ شکل میں بورڈ آف پیس کا حصہ نہیں بنے گا۔
وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اقوامِ متحدہ کے بانی رکن اور طویل عرصے سے اس کے سرگرم حامی ملک کی حیثیت سے نیوزی لینڈ کا مؤقف ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی امن فورم کا کردار اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق اور اس کی تکمیل کرنے والا ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عالمی امن سے متعلق کسی بھی اقدام کو اقوامِ متحدہ کے قائم کردہ اصولوں، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر باضابطہ طور پر بورڈ آف پیس کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد عالمی تنازعات کے حل اور امن کے فروغ کے لیے ایک نیا بین الاقوامی پلیٹ فارم قائم کرنا بتایا گیا تھا۔
تاہم نیوزی لینڈ کے حالیہ فیصلے کو اس اقدام کے حوالے سے عالمی سطح پر سامنے آنے والے مختلف تحفظات کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
