انسانی حقوق کی عالمی تنظیم Amnesty International نے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کو باضابطہ سیاسی مقصد بنا لیا ہے اور فلسطینی آبادی کے خلاف منظم اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں کے دوران اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے میں فلسطینی برادریوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے، املاک ضبط کرنے اور جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے کی پالیسی کو مزید تیز کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی آبادی کے خلاف ہونے والے یہ اقدامات محض چند آباد کاروں کی انفرادی کارروائیاں نہیں بلکہ ایک وسیع تر ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے تشدد اور زمینوں پر قبضے کی سرگرمیاں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کی مہم کا بنیادی جزو بن چکی ہیں اور انہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ فلسطینیوں کو معاشی ذرائع، زرعی زمینوں اور رہائشی علاقوں سے محروم کر کے انہیں اپنی آبائی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تنظیم کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیاں پیدا کرنا اور اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اس نے آباد کاروں کے تشدد اور مبینہ جرائم کو روکنے کے بجائے ان سے چشم پوشی اختیار کی اور بعض معاملات میں ان کی عملی حمایت بھی کی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود مؤثر اقدامات نہ کرنا عالمی اداروں اور طاقتوں کو یا تو "شریک جرم” یا "غفلت کا شکار” بناتا ہے۔
