امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف دائر ہتکِ عزت کا مقدمہ ایک امریکی عدالت نے مسترد کر دیا ہے، تاہم انہیں کیس دوبارہ دائر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ڈیرن گیلز، جو میامی میں تعینات امریکی ڈسٹرکٹ جج ہیں، نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس قانونی معیار پر پورا نہیں اتر سکے جسے “حقیقی بدنیتی” (Actual Malice) کہا جاتا ہے، جو کسی عوامی شخصیت کے لیے ہتکِ عزت کے مقدمات میں بنیادی شرط ہوتا ہے۔
عدالت کے مطابق اس معیار کے تحت یہ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے کہ نہ صرف خبر غلط تھی بلکہ اسے شائع کرنے والے کو اس کے غلط ہونے کا علم بھی تھا یا ہونا چاہیے تھا، تاہم جج کے بقول ٹرمپ کی درخواست اس معیار کے قریب بھی نہیں پہنچ سکی۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹرز نے خبر شائع کرنے سے قبل ٹرمپ کا مؤقف لینے کی کوشش کی اور ان کی تردید کو بھی رپورٹ میں شامل کیا، جس سے بدنیتی کا الزام کمزور ہو جاتا ہے۔
یہ مقدمہ اس رپورٹ کے بعد دائر کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ کا نام 2003 میں بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے لیے ایک سالگرہ پیغام میں شامل تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس دعوے کو جعلی قرار دیتے ہوئے 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ڈاؤ جونز، جو اخبار کی مالک کمپنی ہے، نے اپنی رپورٹ کی درستگی کا دفاع کیا ہے۔
عدالت نے ٹرمپ کو 27 اپریل تک ترمیم شدہ درخواست دوبارہ جمع کرانے کی اجازت دی ہے، تاہم اس فیصلے پر فوری طور پر نہ ٹرمپ کے وکلا اور نہ ہی وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔
