لندن: کرکٹ کی دنیا کے معتبر ترین سالانہ جریدے Wisden Cricketers’ Almanack نے بین الاقوامی کرکٹ میں بھارت کے سیاسی اثر و رسوخ پر شدید تنقید کرتے ہوئے موجودہ نظام کو “آرویلین” (Orwellian) قرار دے دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) سیاست کے زیر اثر ایک ذیلی ادارے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرکٹ انتظامیہ میں سیاسی مداخلت نے کھیل کی غیر جانبداری کو متاثر کیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ Board of Control for Cricket in India حکمران جماعت Bharatiya Janata Party کے زیر اثر کام کر رہا ہے۔ جریدے کے مطابق موجودہ صورتحال میں کھیل اور سیاست کے درمیان حدیں دھندلا گئی ہیں، جس سے بین الاقوامی کرکٹ کا انتظامی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے۔
Wisden Cricketers’ Almanack کے ایڈیٹر لارنس بوتھ نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ برسوں میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل میں بھارتی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بھارتی نژاد عہدیداروں نے اہم انتظامی عہدے سنبھالے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اس صورتحال نے کرکٹ کی عالمی گورننس کو “غیر صحت مند اور سیاست زدہ” بنا دیا ہے۔
اداریے میں International Cricket Council کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انتظامی سطح پر طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے، جس کے اثرات عالمی ٹورنامنٹس اور دوطرفہ سیریز پر بھی پڑ رہے ہیں۔ رپورٹ میں ایشیا کپ 2025 کے دوران پیش آنے والے واقعات کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا، جہاں بھارت اور پاکستان کے کھلاڑیوں کے درمیان روایتی مصافحے نہ ہونے جیسے اقدامات کو سیاسی تناؤ کا نتیجہ قرار دیا گیا۔
جریدے نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ کرکٹ اب بعض خطوں میں صرف کھیل نہیں رہا بلکہ جغرافیائی سیاست اور طاقت کے اظہار کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بعض مواقع پر سیاسی قیادت کی جانب سے کھیلوں کے نتائج کو بھی قومی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے کھیل کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھے۔
مزید یہ کہ رپورٹ میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کے معاملات اور انڈین پریمیئر لیگ سے متعلق تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کھیلوں کے فیصلوں پر غیر کھیل عوامل کا اثر بڑھتا جا رہا ہے، جس سے چھوٹی کرکٹ ٹیموں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
آخر میں Wisden Cricketers’ Almanack نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو بین الاقوامی کرکٹ کا انتظامی نظام مزید غیر متوازن ہو سکتا ہے اور کھیل کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
