Close Menu
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Facebook X (Twitter) Instagram
Trending
  • ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110 ڈالر دیے جا رہے ہیں، محی الدین وانی
  • عراق: کرکوک میں بم دھماکا، بریگیڈیئر جنرل اور فوجی جاں بحق
  • پاک فوج کی ٹیم نے ایکسرسائز کیمبرین پیٹرول 2026 میں چاندی کا تمغہ جیت لیا
  • ملک کے بالائی علاقوں میں بارش، کشمیر میں ژالہ باری اور موسلا دھار بارش کا امکان
  • سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس مثبت زون میں بند ہوا
  • اسلام آباد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرنےکیلئےکیس 21 اکتوبرکوسماعت کیلئےمقرر
  • کراچی: جناح ہسپتال میں ریبیز کا ایک اور مشتبہ کیس رپورٹ
  • لاہور: کاہنہ میں والد کے ساتھ مل کر والدہ کو قتل کرنے والا بیٹا گرفتار
Facebook X (Twitter) Instagram YouTube TikTok
Demo
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • سنٹرل ایشیا
  • دنیا
  • فیکٹ چیک
  • ٹرینڈ
  • شوبز
  • کھیل
  • کاروبار
  • کالمز
  • ملٹی میڈیا
Home»دنیا»ایران کے یورینیئم افزودگی معاہدے میں پابندیوں کا دورانیہ سیاسی فیصلہ ہوگا، رافیل گروسی
دنیا

ایران کے یورینیئم افزودگی معاہدے میں پابندیوں کا دورانیہ سیاسی فیصلہ ہوگا، رافیل گروسی

EditorBy Editorاپریل 15, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
Facebook Twitter Pinterest LinkedIn WhatsApp Reddit Tumblr Email
The duration of sanctions in Iran's uranium enrichment deal will be a political decision, Rafael Grossi
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

ویانا: عالمی جوہری توانائی ایجنسی International Atomic Energy Agency کے ڈائریکٹر جنرل Rafael Grossi نے کہا ہے کہ ایران کے یورینیئم افزودگی پروگرام پر کسی بھی ممکنہ پابندی کا دورانیہ طے کرنا تکنیکی نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی فیصلہ ہوگا۔

برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا اور Iran کے درمیان کسی معاہدے پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس میں یہ تعین کرنا کہ تہران کتنے عرصے تک یورینیئم افزودگی سے باز رہے گا، سائنسی یا فنی بنیاد پر نہیں بلکہ مذاکراتی اور سیاسی حکمتِ عملی کے تحت طے ہوگا۔

Rafael Grossi کے مطابق اس معاملے میں بنیادی اختلاف یہی ہے کہ مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام کو ممکنہ عسکری استعمال کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ تہران اسے توانائی اور سویلین مقاصد سے جوڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اختلاف کا حل صرف سفارتی بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

دوسری جانب حالیہ مذاکراتی دور میں امریکا اور ایران کے درمیان پیش رفت کے باوجود اہم نکات پر ڈیڈ لاک برقرار رہا ہے۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ یورینیئم افزودگی کی مدت اور اس پر ممکنہ پابندیوں کا دائرہ کار ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا طویل مدت تک سخت پابندیوں کا خواہاں ہے جبکہ ایران نسبتاً کم مدت اور محدود شرائط پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ تاہم فریقین کے درمیان اب تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

International Atomic Energy Agency کے سربراہ نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار سیاسی ارادوں اور فریقین کی لچک پر ہے، نہ کہ صرف تکنیکی یا سائنسی عوامل پر۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Telegram Email
Editor

Related Posts

عراق: کرکوک میں بم دھماکا، بریگیڈیئر جنرل اور فوجی جاں بحق

اکتوبر 14, 2026

سعودی کابینہ کا حوثیوں کو انتباہ، مسلسل حملوں کے نتائج بھگتنے کا اعلان

اکتوبر 14, 2026

چین کا مشرق وسطیٰ میں جامع جنگ بندی کے لیے تعمیری کردار جاری رکھنے کا اعلان

اکتوبر 14, 2026
Leave A Reply Cancel Reply

Routine News

 Nunc elementum sagittis eleifend. Cras non sem malesuada, gravida quam vitae, lobortis ipsum. Nunc aliquet lobortis dui at aliquet. Donec a luctus turpis. Pellentesque aliquam leo et elit finibus iaculis. Curabitur dolor tortor, facilisis nec pharetra congue, euismod non ante. Nunc tristique facilisis arcu ut sagittis. Mauris malesuada est nulla. Nullam volutpat convallis elit.

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.