ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے اور امکان ہے کہ آئندہ بدھ کو اسلام آباد ایک بار پھر اس اہم سفارتی عمل کی میزبانی کرے گا۔
تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ ابتدائی مذاکراتی دور پہلے ہی اسلام آباد میں ہو چکا ہے، جس کے بعد ایرانی وفد کی واپسی کے بعد بھی پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار سے اب تک متعدد پیغامات کا تبادلہ ہو چکا ہے اور پاکستانی ثالثی کا عمل جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق ان مذاکرات میں جنگ بندی، ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم امور زیرِ بحث آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ مذاکرات بنیادی طور پر جنگ بندی کو مستحکم بنانے پر مرکوز ہوں گے۔
Esmail Baghaei نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، تاہم اپنے قانونی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور خطے میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا محاصرہ ممکن نہیں اور یہ اقدام جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے اور وہ سفارتی راستے کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ پاکستان کی ثالثی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
