جاپان میں مسجد تنازع عالمی موضوع بن گیا، سفیر پاکستان کی شرکت پر سفارتخانے کی وضاحت

جاپان کے شہر Kawagoe میں قائم جامع مسجد رمضان سے متعلق تنازع اب مقامی انتظامی معاملے سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر چکا ہے۔ مسجد کی افتتاحی تقریب میں پاکستان کے سفیر کی شرکت کے بعد اس معاملے کو جاپانی، بھارتی اور اسرائیلی میڈیا میں نمایاں کوریج ملی، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مختلف آراء اور دعوے سامنے آئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق رواں سال اپریل میں جامع مسجد رمضان کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تھی، جس میں جاپان میں پاکستان کے سفیر Abdul Hamid نے خصوصی شرکت کی۔

بعد ازاں کاواگوئے کی میئر Hatsui Morita نے ایک پریس کانفرنس میں مؤقف اختیار کیا کہ مسجد ایک ایسے علاقے میں تعمیر کی گئی جہاں شہری ترقیاتی قوانین کے تحت خصوصی اجازت درکار تھی، تاہم ضروری قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق مقامی انتظامیہ اس معاملے کو قانونی طریقہ کار کے تحت حل کرے گی۔

یہ معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہو گیا جب مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس حوالے سے رپورٹس اور تبصرے سامنے آنے لگے۔ بعض حلقوں نے اس معاملے کو سیاسی اور سفارتی تناظر میں بھی پیش کیا۔

دوسری جانب پاکستانی سفارتخانے نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سفیر کو تقریب میں شرکت کی دعوت دیتے وقت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مسجد کی تعمیر سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی تقاضے مکمل کیے جا چکے ہیں۔

سفارتخانے کے مطابق سفیر نے تقریب میں شرکت سے قبل اس حوالے سے استفسار بھی کیا تھا اور منتظمین نے انہیں بتایا تھا کہ تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط کی پابندی کی گئی ہے۔ بعد میں سامنے آنے والی معلومات سے معلوم ہوا کہ بعض قانونی تقاضے مکمل نہیں ہوئے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی سفارتخانہ جاپان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو ہمیشہ مقامی قوانین اور ضوابط کی مکمل پابندی کی تلقین کرتا ہے اور کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتا جو میزبان ملک کے قوانین سے متصادم ہو۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے