امریکی سینیٹ نے اسرائیل کو فوجی بلڈوزرز کی فراہمی روکنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی قرارداد آج پیش

امریکا میں اسرائیل کی فوجی امداد کے معاملے پر جاری سیاسی اختلافات کے دوران امریکی سینیٹ نے اسرائیلی فوج کے لیے بلڈوزرز کی فراہمی روکنے سے متعلق قرارداد کو مسترد کر دیا ہے، جس سے واشنگٹن کی تل ابیب کے لیے جاری حمایت ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد کے حق میں 40 ڈیموکریٹ سینیٹرز نے ووٹ دیا، تاہم 59 سینیٹرز نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسرائیل کو بلڈوزرز کی فراہمی جاری رکھنے کی حمایت کی۔ یوں یہ قرارداد مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکی اور ناکام ہو گئی۔

یہ قرارداد سینیٹر برنی سینڈرز کی قیادت میں پیش کی گئی تھی، جو ماضی میں بھی اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد، خصوصاً ہتھیاروں کی ترسیل، پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیل کو بموں کی فراہمی روکنے سے متعلق ایک اور قرارداد بھی سینیٹ میں پیش کی گئی تھی، تاہم وہ بھی منظور نہ ہو سکی۔

اسی تناظر میں ایک اور ووٹنگ میں اسرائیل کو 1 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فراہمی روکنے کے حق میں 36 سینیٹرز نے حمایت کی، لیکن یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی۔

تازہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی سینیٹ میں اسرائیل کی فوجی امداد کے معاملے پر گہری تقسیم موجود ہے، جہاں ایک جانب کچھ ڈیموکریٹ اراکین امداد محدود کرنے کے حامی ہیں، تو دوسری جانب ریپبلکن اور بعض ڈیموکریٹس اسرائیل کی مکمل حمایت جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے