انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ نے کرکٹ کینیڈا میں مبینہ بدعنوانی کے سنگین معاملات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جس سے عالمی کرکٹ میں شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقات دو اہم پہلوؤں پر مرکوز ہیں، جن میں ایک حالیہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران کینیڈا کرکٹ ٹیم اور نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے درمیان کھیلا گیا میچ بھی شامل ہے۔
یہ انکشاف کینیڈین تحقیقاتی پروگرام ’دی ففتھ اسٹیٹ‘ کی ڈاکیومنٹری ’کرپشن، کرائم اینڈ کرکٹ‘ میں سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ میچ کا ایک اوور مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اوور میں کپتان دلپریت باجوا نے غیرمعمولی بولنگ کرتے ہوئے اضافی رنز دیے، جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
تحقیقات کے دوسرے پہلو میں ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی شامل ہے، جس میں سابق کوچ خرم چوہان نے الزام عائد کیا کہ بورڈ حکام ٹیم سلیکشن پر دباؤ ڈالتے رہے۔ اسی نوعیت کے الزامات سابق ہیڈ کوچ پبڈو دسانائیکے نے بھی لگائے، جن کا کہنا تھا کہ مخصوص کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا اور انکار کی صورت میں ملازمت سے برطرفی کی دھمکیاں دی گئیں۔
مزید برآں، کرکٹ کینیڈا کو طویل عرصے سے انتظامی بحران، مالی مشکلات اور کھلاڑیوں کو ادائیگیوں میں تاخیر جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے، جو اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
آئی سی سی کے اینٹی کرپشن حکام نے جاری تحقیقات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جہاں بھی کھیل کی ساکھ اور شفافیت کو خطرہ لاحق ہوگا، وہاں سخت کارروائی کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف کرکٹ کینیڈا بلکہ عالمی کرکٹ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
