یورپی کمیشن نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 10 روزہ جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیرلین نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والی یہ جنگ بندی ایک بڑی پیش رفت ہے اور اس سے فوری طور پر متاثرہ عوام کو کچھ ریلیف ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سیزفائر ایک "راحت” ہے کیونکہ جاری تنازع پہلے ہی کئی قیمتی جانیں لے چکا ہے، اور خطے میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا چکا ہے۔
یورپی کمیشن کی سربراہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپ، لبنان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے مکمل احترام کا مطالبہ جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین انسانی امداد کے ذریعے لبنانی عوام کی مدد جاری رکھے گی تاکہ جنگ سے متاثرہ افراد کو سہارا دیا جا سکے۔
یاد رہے کہ یہ جنگ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، اور عالمی طاقتیں صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔
