عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) آئی ایم ایف کی سفارش پر ملک کے تجارتی نظام میں بڑی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ حکام وزارت خزانہ کے مطابق نئے بجٹ میں 60 سے 70 غیر ضروری پابندیاں ختم ہوں گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کو بیل آؤٹ پیکج کیلئے اہم اصلاحات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرادی ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں پرانی تجارتی رکاوٹیں بتدریج ختم کرنے کی تیاری جاری ہے، حکام کے مطابق نئے بجٹ میں 60 سے 70 غیر ضروری پابندیاں ختم ہوں گی، درآمدات اور برآمدات پر عائد 2600 سے زائد رکاوٹیں بتدریج کم کی جائیں گی۔
اگلے بجٹ میں ٹیرف 10.7 سے 9.5 فیصد پر لانے کی تجویز ہے،2030 تک اوسط ٹیرف کم کر کے 7.4 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر ہے۔ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 4سال میں 40 فیصد سے صفر کرنے، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، لیدر، کیمکلز و دیگر شعبوں میں رکاوٹیں دور کرنے کا پلان ہے۔
بجٹ 27-2026 میں کاروبار آسان بنانے کے اقدامات شامل ہوں گے، ٹیکس کے علاوہ رکاوٹیں کم، معیشت کو سہارا دینے کے مزید اقدامات پر غور جاری ہے۔ نئے بجٹ میں درآمدی ڈیوٹی میں بھی بتدریج کمی کی تجویز ہے۔
حکام کے مطابق نومبر 2026 تک ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈرز میں مزید ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے، مختلف شعبوں پر مزید نان ٹیرف رکاوٹوں کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جائے گا، ڈیوٹیز میں کمی نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت کی جائے گی۔
وزارت خزانہ کے مطابق اوسط ٹیرف میں کمی سے درآمدی لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی، اصلاحات سے برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے، اقدامات کی حتمی منظوری کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز دے گی۔
تنخواہ دارطبقے کو ریلیف دینےکی تجویز
واضح رہے کہ نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا،بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کو ریلیف دینےکی تجویز ہے جبکہ آئی ایم ایف کی مشاورت سےسپرٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے گی،بی آئی ایس پی کے مستحقین کے وظیفے میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔
مالی سال دو ہزار 26-27 کےبجٹ میں مختلف شعبوں کوحاصل انکم ٹیکس اورسیلزٹیکس چھوٹ ختم کرنےکی تجویز ہے،خصوصی اقتصادی زونزسمیت نئی ٹیکس چھوٹ یااستثنی نہیں دیا جائے گا،اسپیشل اکنامک زونزکو پہلے سےحاصل ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی۔
