اسرائیلی سپریم کورٹ کی فوجی سروس سے انکار کرنے والے مذہبی یہودی نوجوانوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

Israeli Supreme Court orders action against religious Jewish youth who refuse military service

 

اسرائیلی سپریم کورٹ نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے کٹر مذہبی یہودی نوجوانوں کے خلاف سخت اقدامات کرے جو لازمی فوجی خدمات انجام دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں ہر شہری کے لیے ایک مخصوص مدت تک فوجی خدمات انجام دینا قانونی طور پر لازمی ہے، تاہم طویل عرصے سے الٹرا آرتھوڈوکس (کٹر مذہبی) یہودیوں کو اس ذمہ داری سے استثنا حاصل رہا ہے۔ یہ رعایت اب ایک بڑے قانونی اور سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

عدالت نے اپنے حالیہ حکم میں واضح کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر عملی اقدامات کرے اور ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جو عدالتی فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے یا فوج میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

مراعات ختم کرنے کا بھی حکم

عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ان مذہبی خاندانوں کو دی جانے والی اضافی سہولتیں ختم کی جائیں، جن میں:

  • سبسڈی والی ٹرانسپورٹ
  • ٹیکس میں رعایت
  • بچوں کے لیے اضافی چائلڈ کیئر سہولیات

شامل ہیں۔

جج نوم سولبرگ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ پابندیاں نہیں بلکہ غیر ضروری مراعات کا خاتمہ ہے، اور فوجی خدمات انجام دینا ایک جائز قانونی تقاضا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پس منظر: سیاسی دباؤ اور حکومتی مشکلات

یہ معاملہ اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت میں شامل کئی جماعتیں انہی مذہبی حلقوں کی حمایت سے اقتدار میں آئی ہیں، جس کے باعث حکومت عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق:

  • اس طبقے کی آبادی اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہو چکی ہے
  • صرف 2 فیصد افراد نے عدالتی حکم کے بعد فوج میں شمولیت اختیار کی
  • تقریباً 66 ہزار نوجوان اب بھی لازمی فوجی خدمات کے لیے پیش نہیں ہوئے

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے