یورپی ملک کوسوو ایک بار پھر سیاسی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں پارلیمنٹ نئے صدر کے انتخاب میں ناکام ہو گئی ہے، جس کے بعد ملک میں فوری عام انتخابات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کوسوو کی پارلیمنٹ میں صدر کے انتخاب کے لیے مقررہ وقت ختم ہونے کے باوجود کسی بھی امیدوار کو مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ اس ناکامی کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔
اپریل کے آغاز میں صدر ویوسا عثمانی کی مدتِ صدارت ختم ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے پاس نیا سربراہِ مملکت منتخب کرنے کے لیے مقررہ آئینی مدت تھی، تاہم وزیراعظم البین کرتی اپنی جماعت کے امیدوار کے حق میں مطلوبہ سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکام رہے۔
کوسوو کے آئین کے مطابق 120 نشستوں والی پارلیمنٹ میں صدر کے انتخاب کے لیے دو تہائی اکثریت اور اجلاس میں مطلوبہ کورم کی موجودگی ضروری ہوتی ہے، لیکن حالیہ ووٹنگ سیشن میں یہ شرط پوری نہ ہو سکی، جس کے باعث عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
پارلیمنٹ کی اسپیکر اور قائم مقام صدر البولینا ہاکسیو نے اعلان کیا کہ آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ کو تحلیل تصور کیا جاتا ہے، جس کے بعد ملک میں نئے انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق جلد ہی عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان متوقع ہے، جو ممکنہ طور پر ایک سال کے دوران تیسرا بڑا انتخابی مرحلہ ہوگا۔
