وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ کہا تیل کی قیمتوں کے حوالے سے چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہے۔ قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جنگ سے پہلے تیل کی مد میں پاکستان کا ایک ہفتے کا بل 30 کروڑ ڈالر تھا اب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اجتماعی کوششوں سے صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات کررہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن تھی مگر جنگ کے باعث ہماری اجتماعی کاوشوں کو نقصان پہنچا۔ مشکلات کے باوجود ہم نے وقت پر قرض ادا کیے، تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتیں ہمارے لیے بڑا چیلنج ہیں، جنگ بند ہوئی تو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔
شہبازشریف نے پبلک ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں سبسڈی برقرار رکھنے کیلئے صوبوں سے مشاورت کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ عباس عراقچی نے اپنی قیادت سے مشورے کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی۔ شہبازشریف نے مذاکرات کے دوران وزیرداخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کی تعریف کی۔
