ایران کا دوٹوک مؤقف: آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوگی

Iran's National Security Council chief Ebrahim Azizi

Iran کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ Ebrahim Azizi نے خبردار کیا ہے کہ Strait of Hormuz میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

یہ ردعمل Donald Trump کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ’’پراجیکٹ فریڈم‘‘ کے تحت ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کی بات کی تھی۔

ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز اور Persian Gulf کے معاملات کسی ’’فریب دینے والی بیان بازی‘‘ سے نہیں چل سکتے، اور ان حساس سمندری راستوں کے حوالے سے غیر سنجیدہ بیانات کی کوئی گنجائش نہیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق خطے کی سلامتی اور سمندری نظم و نسق علاقائی فریقین کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور کسی بیرونی مداخلت سے صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے نزدیک ایران کا یہ سخت ردعمل اس بات کا اشارہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں پہلے ہی فوجی اور سفارتی دباؤ موجود ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے