نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے ساتھ کسی بھی کھیل کی دوطرفہ سیریز کھیلنے سے باضابطہ انکار کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات مزید محدود ہونے کا امکان ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ براہِ راست کھیلوں کے مقابلوں کے حق میں نہیں، اور اسی پالیسی کے تحت وزارتِ کھیل نے مختلف اسپورٹس فیڈریشنز، اولمپک ایسوسی ایشن اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق بھارت نہ تو اپنی سرزمین پر پاکستان کے ساتھ کسی دوطرفہ سیریز کی میزبانی کرے گا اور نہ ہی اپنی قومی ٹیموں کو پاکستان بھیجے گا۔ اسی طرح پاکستانی ٹیموں کو بھی بھارت میں دوطرفہ مقابلوں کے لیے مدعو نہیں کیا جائے گا۔
تاہم بھارت نے کثیر ملکی (ملٹی نیشنل) ایونٹس کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مقابلوں میں شرکت کا فیصلہ بین الاقوامی اسپورٹس اداروں کے قواعد و ضوابط اور کھلاڑیوں کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی کھلاڑی ان ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گے جہاں پاکستانی ٹیمیں بھی شامل ہوں۔
مزید برآں، اگر بھارت کسی بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کرتا ہے تو عالمی قوانین کے تحت پاکستانی ٹیموں کو شرکت کی اجازت دی جائے گی، کیونکہ یہ اصول عالمی کھیلوں کے نظام کا حصہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پالیسی کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنے کے دعوؤں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ شائقین کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے مداحوں کو روایتی پاک بھارت مقابلوں سے محروم رہنا پڑ سکتا ہے۔
