امریکہ کی تجارتی عدالت نے امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے عائد کیے گئے 10 فیصد عالمی درآمدی ٹیرف کے خلاف بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق عدالت نے یہ فیصلہ ان چھوٹے کاروباری اداروں کے حق میں دیا جنہوں نے فروری میں نافذ کیے گئے ان محصولات کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اضافی ٹیرف کے باعث کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا اور عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوئی۔
عدالت نے 2-1 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ 1974ء کے تجارتی قانون کے تحت صدر کو اس نوعیت کے وسیع پیمانے پر عالمی درآمدی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے تقریباً 1.2 کھرب ڈالر کے تجارتی خسارے اور معاشی دباؤ کو جواز بنا کر یہ اقدام کیا، تاہم عدالت کے مطابق جس قانون کا حوالہ دیا گیا وہ ایسے تجارتی خسارے پر لاگو نہیں ہوتا۔
عدالتی ریمارکس میں مزید کہا گیا کہ صدر نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا اور کانگریس کی منظوری کے بغیر اس پیمانے کے محصولات نافذ نہیں کیے جا سکتے۔
درخواست گزار کمپنی کے سربراہ Jay Foreman نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی ٹیرف سے کاروبار، عالمی سپلائی نظام اور صارفین شدید متاثر ہو رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے کاروباری اداروں کو استحکام اور مستقبل کے لیے واضح سمت ملے گی۔
