ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس میں تفتیشی افسر نے ٹرائل کورٹ میں اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مرکزی ملزم Umar Hayat نے مجسٹریٹ کے سامنے قتل کا اعتراف کیا ہے۔
Islamabad کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران تفتیشی افسر فخر عباس نے پراسیکیوٹر نوید حسین کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم عمر حیات کو Jaranwala میں اس کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا تھا اور گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے ایک موبائل فون بھی برآمد ہوا۔
تفتیشی افسر کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اسلام آباد آکر اسلحے کی نشاندہی کی، جس کے بعد پستول برآمد کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ اُس مقام کی بھی نشاندہی کی گئی جہاں سے گاڑی کرائے پر لی گئی تھی، جبکہ متعلقہ گاڑی کی شناخت بھی مکمل کر لی گئی۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ مقتولہ کے کمرے کے دروازے پر نصب شیشے سے حاصل کیے گئے فنگر پرنٹس کا فرانزک جائزہ لیا گیا، اور نادرا رپورٹ کے مطابق یہ فنگر پرنٹس ملزم عمر حیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔
تفتیشی افسر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزم اور مقتولہ کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ چیٹ بھی تفتیشی ریکارڈ کا حصہ ہے۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزم کو شناختی پریڈ کے دوران بھی شناخت کیا گیا جبکہ اُس کی درخواست پر مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان قلمبند کیا گیا۔
کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر جاری رکھی جائے گی۔
