پاکستانی ثالثی کی کوششیں ناکام نہیں ہوئیں، ایران اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کی فضا برقرار، عباس عراقچی

Iranian Foreign Minister thanks Pakistan for its support, praises its diplomatic role

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں تاحال ناکام نہیں ہوئیں، تاہم مذاکرات ایک انتہائی مشکل مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد کی فضا بدستور برقرار ہے۔

نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ موجودہ تعطل کی بڑی وجہ امریکی رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارتی حل چاہتا ہے لیکن امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے مذاکراتی عمل آگے بڑھنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

عباس عراقچی نے روس کی جانب سے افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی پیشکش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت اپنے افزودہ یورینیم کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے پر غور نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق امریکا کے ساتھ مذاکرات میں سب سے بڑا ڈیڈ لاک یورینیم افزودگی کے معاملے پر ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ وہ ممالک ہیں جو ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں میں شامل رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں شریک ممالک کے علاوہ آبنائے ہرمز دیگر تمام ممالک کے لیے کھلی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مثبت پیش رفت ہوئی تو آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ بنائی جا سکتی ہے اور عالمی بحری تجارت معمول پر واپس آ سکتی ہے۔

عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ ایران نے متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا کیونکہ وہاں سے ایران کے خلاف کارروائیاں کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکا متحدہ عرب امارات کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے جنگ کا آغاز نہیں کیا بلکہ صرف اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو ایران بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے چین کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ بیجنگ ماضی میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بحال کرانے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران چین کو ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے اور سفارتی عمل میں چین کی کسی بھی مثبت کوشش کا خیر مقدم کرے گا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا اور اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی دباؤ، دھمکی یا عسکری کارروائی کے سامنے جھکنے والا نہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے