Iran کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہاز گزارنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً China، Japan اور Pakistan کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیے جانے کے بعد اب یورپی ممالک بھی اجازت حاصل کرنے کے لیے Islamic Revolutionary Guard Corps کی بحریہ سے رابطے کر رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد ایران نے اس اہم عالمی آبی گزرگاہ سے جہاز رانی کو سخت حد تک محدود کر رکھا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جبکہ تہران کو ایک اہم سیاسی اور معاشی فائدہ بھی حاصل ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی جاری ہے۔
پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق ایران نے گزشتہ چند روز میں چین سمیت متعدد ممالک کے درجنوں جہازوں کو نئے ضوابط کے تحت گزرنے کی اجازت دی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ Ebrahim Azizi نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کنٹرول کے لیے ایک “پیشہ ورانہ طریقہ کار” تیار کیا ہے، جس کا جلد باضابطہ آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس نظام کے تحت صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک کو سہولت دی جائے گی، جبکہ خدمات کے عوض فیس بھی وصول کی جائے گی۔
