ترکیہ کی فوج اور انٹیلیجنس ایجنسی نے شام میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شدت پسند تنظیم داعش کے 10 مشتبہ کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترک وزارتِ دفاع کے مطابق گرفتار افراد کو بعد ازاں ترکیہ منتقل کر دیا گیا جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔
ترک وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ یہ کارروائی ترکیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی اور شامی انٹیلیجنس اداروں کے تعاون سے کی گئی۔ ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد پر ترکیہ میں ماضی میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار مشتبہ افراد میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جس پر 2015 میں انقرہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے خودکش حملے میں معاونت کا الزام ہے۔ اس حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور اسے ترکیہ کی تاریخ کے بدترین دہشتگرد حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد میں داعش کے ترکیہ نیٹ ورک کا ایک اہم مبینہ رہنما بھی شامل ہے جو تنظیمی سرگرمیوں میں سرگرم کردار ادا کرتا رہا۔
ترکیہ اس وقت شام کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں تقریباً 20 ہزار سے زائد فوجی اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہوئے ہے۔ یہ تعیناتی مختلف فوجی آپریشنز اور سیکیورٹی معاہدوں کے تحت عمل میں آئی۔
ترک افواج عدلب، عفرین، اعزاز، الباب، جرابلس، راس العین اور تل ابیض سمیت کئی سرحدی علاقوں میں موجود ہیں۔ ترکیہ کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد سرحدی سلامتی یقینی بنانا، کرد مسلح گروہوں کو دور رکھنا اور داعش کے خطرے کا خاتمہ کرنا ہے۔
اگرچہ داعش اب شام اور عراق میں کسی بڑے جغرافیائی علاقے پر قابض نہیں، تاہم تنظیم کے زیرِ زمین نیٹ ورکس اب بھی فعال سمجھے جاتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شام اور عراق میں داعش کے تقریباً 3 ہزار جنگجو مختلف خفیہ گروپوں کی صورت میں موجود ہیں۔
