امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں “اہم پیش رفت” ہوئی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو “اچھی خبر” مل سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوگا۔
بھارت کے دورے کے دوران نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اور خلیجی شراکت دار گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جو نہ صرف آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول سکتا ہے بلکہ ایران کے جوہری عزائم سے متعلق اہم معاملات کو بھی حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول یا فیس کے بحری ٹریفک کے لیے کھولنا، اور ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت شامل ہو سکتی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہو سکتا ہے جبکہ اس کے بدلے میں امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور بعض منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرے گا اور ممکنہ طور پر یورینیم افزودگی سے متعلق کچھ رعایتیں دے سکتا ہے۔ تاہم ایک سینئر ایرانی ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ تہران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرنے پر اتفاق نہیں کیا۔
