اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جون 2028 تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی فنانسنگ کو ڈیڑھ کھرب روپے تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیاہے،جبکہ ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچانے کامنصوبہ بھی بنایاگیا ہے۔
پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار،زراعت اورکم لاگت رہائش جیسے ترجیحی شعبوں کو مالی سہولتوں کی فراہمی بینکاری شعبے کیلیے بڑاچیلنج ہونے کے ساتھ اہم موقع بھی ہے، پائیدار معاشی ترقی کیلیے ایسا بینکاری نظام ناگزیر ہے جو پیداواری سرمایہ کاری کی بھرپور حمایت کرے۔
انہوں نے کہاکہ زراعت، ایس ایم ایز اورکم لاگت رہائش روزگار، برآمدات اورمعاشی استحکام کے اہم ستون ہیں، تاہم ان شعبوں کو اب بھی مالی وسائل کی کمی کاسامناہے۔گورنر کے مطابق جون 2021 سے دسمبر 2025 کے دوران ایس ایم ای فنانسنگ کاحجم دوگناسے زائد ہوچکاہے،جبکہ قرض لینے والے کاروباروں کی تعدادمیں تقریباً 75 فیصد اضافہ ریکارڈکیاگیا۔ انہوں نے ان نتائج کوحوصلہ افزاقراردیتے ہوئے کہاکہ اب بینکوں کو جدت اور نئی حکمت عملی کے ذریعے اس شعبے میں وسعت لانا ہوگی۔
بینک آف پنجاب کے صدراور چیف ایگزیکٹو آفیسر اورچیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن ظفر مسعودنے کہاکہ نجی شعبے میں قرضوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کاروباروں کاغیر دستاویزی ہوناہے،جب تک کاروبار رجسٹرڈ نہیں ہوں گے اور ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہونگے، بینک ان کی مالی حیثیت کادرست اندازہ لگاکرقرض فراہم نہیں کر سکیں گے، ایس بی پی کی نئی حکمت عملی کے تحت ہدایت یافتہ قرضوں پر انحصارکم کرتے ہوئے ایسا نظام تشکیل دیاجارہاہے،جس میں ریگولیٹری اصلاحات، ڈیجیٹل جدت،رسک شیٔرنگ اورصلاحیت سازی کوفروغ دیاجائے۔
گورنر جمیل احمد نے بتایاکہ حالیہ ریگولیٹری اصلاحات کے تحت قرضوں کی حدمیں اضافہ، بغیر ضمانت قرضوں کی گنجائش میں توسیع،قرض کے حصول کاآسان طریقہ کار اور ایس ایم ایزکیلیے احتیاطی ضوابط میں بہتری لائی گئی ہے، تاکہ بینک جدید ٹیکنالوجی، فن ٹیک اداروں کے اشتراک اورمتبادل ڈیٹاکی بنیاد پرکیش فلو فنانسنگ جیسے جدیدمالیاتی ماڈلز متعارف کراسکیں۔
گورنر نے کہاکہ ایس بی پی کے وژن 2028 میں ڈیجیٹل تبدیلی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے،اس وقت 92 فیصد سے زائد ریٹیل مالیاتی لین دین ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دیاجارہاہے،جبکہ ملک میں مالیاتی کھاتوں کی تعداد 26 کروڑ 80 لاکھ اورراست آئی ڈیز 4 کروڑ 90 لاکھ سے تجاوزکر چکی ہیں۔
بینک الفلاح کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور پاکستان بینکنگ سمٹ کے چیئرمین عاطف باجوہ نے بھی زراعت،ایس ایم ایز، رہائش،ماحولیات اور خواتین کی معاشی شمولیت کیلیے مالی سہولتوں میں اضافے کی ضرورت پرزوردیا۔ انہوں نے بینکاری شعبے پرزور دیاکہ وہ ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل میں زیادہ سرمایہ کاری کرے۔
