آئی سی سی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم اور لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کی پچوں کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دونوں وینیوز کو ایک ایک ڈی میرٹ پوائنٹ جاری کر دیا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے یہ کارروائی حالیہ بین الاقوامی میچوں کے بعد میچ ریفریز کی رپورٹس کی بنیاد پر کی گئی۔ قذافی اسٹیڈیم کی پچ کے حوالے سے رپورٹ میچ ریفری گریم لابروئے نے جمع کرائی، جبکہ لارڈز کی پچ کے بارے میں رپورٹ اینڈی پائی کرافٹ کی جانب سے آئی سی سی کو پیش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق قذافی اسٹیڈیم کی پچ غیر معمولی طور پر سست (Slow) اور نچلی (Low) رہی، جس کے باعث بیٹرز کو رنز بنانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ میچ ریفری گریم لابروئے نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ پچ پر گیند متوقع انداز میں نہیں آ رہی تھی اور بیٹرز کے لیے کریز پر سیٹ ہونا بھی مشکل ثابت ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پچ کی مجموعی کارکردگی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کے مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھی، جس کی وجہ سے مقابلے میں بیٹنگ اور بولنگ کے درمیان مناسب توازن برقرار نہیں رہ سکا۔
اسی طرح لارڈز کی پچ کو بھی آئی سی سی کے مقرر کردہ معیارات کے مطابق غیر تسلی بخش قرار دیا گیا، جس کے نتیجے میں انگلینڈ کرکٹ حکام کو بھی ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
آئی سی سی کے قوانین کے تحت اگر کسی وینیو کو مقررہ مدت کے دوران متعدد ڈی میرٹ پوائنٹس مل جائیں تو اس گراؤنڈ پر بین الاقوامی میچز کے انعقاد پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ تاہم موجودہ معاملے میں دونوں میدانوں کو ایک ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق دونوں کرکٹ بورڈز کو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے، اور وہ 14 روز کے اندر باضابطہ طور پر اپنی اپیل جمع کرا سکتے ہیں۔
