آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قومی اسمبلی کے لیے 17 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، رواں سال کے مقابلے میں بجٹ میں 70 کروڑ روپے اضافہ کیا گیا جبکہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات پر 5 ارب 35 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
بجٹ دستاویزات کےمطابق اسپیکرقومی اسمبلی اورڈپٹی اسپیکر کے بجٹ میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیاگیا،اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر اور انکے دفاتر کے اخراجات کے لیےمجموعی طور پر 39 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویزات کےمطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کےملازمین کی تنخواہوں اورالاؤنسز کےلیے 9 ارب 24 کروڑ روپےرکھےگئے ہیں،جبکہ ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اورمراعات پر 5 ارب 35 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی اوران کےچیمبر اسٹاف کے لیے 8 کروڑ روپےسے زائد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،اسی طرح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کےچیئرمینوں کےلیے 16 کروڑ 89 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پاکستانی ادارہ برائے پارلیمانی خدمات کے لیے بھی 50 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
