پالیسیوں کا تسلسل ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے: احسن اقبال

سٹریٹجک ڈائیلاگ اینڈ لانچ آف ڈویلپمنٹ ایڈووکیٹ پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ پورا پالیسی فریم ورک بدل دیا جاتا ہے، جس کے باعث وژن 2020 اور وژن 2025 جیسے منصوبے بھی سیاسی تبدیلیوں کی نذر ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ٹوٹا ہوا سماجی و اقتصادی ڈھانچہ ہے، پائیدار ترقی کے لیے اقتصادی اور سماجی شعبوں میں ہم آہنگی، تعلیم، صحت، آبادی، نوجوانوں اور خواتین پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ رواں سال پاکستان کی آبادی تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو 2050 تک یہ تعداد 37 سے 38 کروڑ ہو سکتی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی اور خوراک کا تحفظ بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں ایک کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں، اسلام آباد، گرد و نواح، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو ہیپاٹائٹس فری بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ صوبوں سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو کا مکمل خاتمہ تاحال نہیں ہو سکا۔

احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام کے تحت ایک ملین نوجوانوں کو سماجی تبدیلی کا سفیر بنایا جائے گا، جو اپنی کمیونٹیز میں تعلیم، صحت اور آبادی سے متعلق آگاہی مہم چلائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے نوجوان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواندگی کی شرح صرف 60 فیصد ہے، جبکہ 40 فیصد بچے غذائی کمی کے باعث سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے اور ملک کو ترقی کے لیے طویل المدتی، پائیدار اصلاحات اور سماجی رویوں میں تبدیلی پر توجہ دینا ہوگی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے