صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے 5131 ارب روپے کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیاہے، پنجاب کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 3569 ارب 60 کروڑ روپے لگایا گیاہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز ہے، پی ایف سی ایوارڈ کے تحت بلدیاتی اداروں 803 ارب روپے دینے کی تجویز ہے۔ سروس ڈلیوری اخراجات 783 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا اور ایوان میں داخل ہوتے ہی نعرے بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن ارکان نے "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو” کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج میں شدت پیدا کر دی اور اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اپوزیشن ارکان نے "جعلی بجٹ نامنظور، نامنظور” کے نعرے بھی لگائے۔
تنخواہیں
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ جبکہ پینشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز ہے، پی ایف سی ایوارڈ کے تحت بلدیاتی اداروں 803 ارب روپے دینے کی تجویز ہے۔ سروس ڈلیوری اخراجات 783 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سرکاری اداروں کے روز مرہ کے اخراجات کی مد میں 578 ارب روپے، جاری اخراجات کی مد میں 679 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم کے 750 ارب، صحت کے لئے 500 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔
وفاق سے پنجاب کو این ایف سی آیوارڈ کے 4390 ارب روپے کی ممتقلی کا تخمینہ ہے، آئندہ مالی سال میں صوبائی آمدن کے حصول کا حدف 1209 ارب چھیاسی کروڑ روپے ہو گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالیاتی فریم ورک کے تحت 910 ارب روپے کا سرپلس بجٹ بھی شامل ہے۔
بجٹ
اکنامک ٹرانسفارمیشن وژن کے تحت "اسکلنگ پنجاب” پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے،مقامی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی تربیت کے لیے 42 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،یورپی کوالیفکیشن فریم ورک سے ہم آہنگ جدید تربیتی نظام متعارف کرایا جائے گا، سینٹرز آف ایکسیلنس اور جدید ووکیشنل اداروں کے ذریعے ہنر مند افرادی قوت تیار کی جائے گی، آئندہ تین برسوں میں ایک لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد کو اضافی تربیت فراہم کی جائے گی۔
اسکلز فار گلوبل نیڈز
بجٹ دستاویز کے مطابق عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی فراہمی کے لیے 51 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،”اسکلز فار گلوبل نیڈز” پروگرام کے تحت 2 لاکھ 40 ہزار افراد کو تربیت دی جائے گی۔پرواز کارڈ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تعمیرات، صحت اور آٹوموٹیو سمیت 12 بین الاقوامی معیار کے تربیتی پروگرام متعارف کرائے جائیں گے،اسکلز فار گلوبل نیڈز پروگرام سے سالانہ ترسیلات زر میں 466 ملین ڈالر اضافے کی توقع ہے۔
فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام
فرنٹیئر ٹیک اسکلز اینڈ انوویٹ پنجاب پروگرام کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،جدید ایل ایم ایس پلیٹ فارم اور انکیوبیٹرز کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی تربیت فراہم کی جائے گی، 60 لاکھ افراد کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، 15 لاکھ فرنٹیئر ٹیک گریجویٹس تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
انوویٹ پنجاب پروگرام
انوویٹ پنجاب پروگرام کے تحت 1200 اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جائے گی،ٹیکنالوجی پروگراموں میں خواتین کی شرکت کم از کم 40 فیصد یقینی بنائی جائے گی۔
ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام
ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز پروگرام کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،بوٹ کیمپس، آئی ٹی انٹرن شپ اور میکر اسپیسز کے ذریعے 70 ہزار 500 سے زائد نوجوان مستفید ہوں گے، بین الاقوامی آئی ٹی سرٹیفیکیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی معیار کی مہارتیں فراہم کی جائیں گی، پروگرام کے تحت نوجوانوں کی متوقع ماہانہ آمدن ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
آٹوموٹیو ٹیکنالوجی سینٹر
شاہدرہ لاہور میں سینٹر آف ایکسیلنس فار ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجیز قائم کیا جائے گا، آٹوموٹیو ٹیکنالوجی سینٹر کے قیام پر 99 کروڑ روپے لاگت آئے گی، سینٹر میں ہر سال 400 افراد کو بین الاقوامی معیار کی فنی تربیت فراہم کی جائے گی، حکومت پنجاب نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،
اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے
پنجاب میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبے کے تحت جدید ڈیجیٹل سکیورٹی نظام کو وسعت دی جا رہی ہے،وزیراعلیٰ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کے تحت تحصیل سطح تک نگرانی کے جدید نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں، ریجنل ڈیٹا سینٹرز اور پی پی آئی سی منصوبوں کے ذریعے جدید سکیورٹی انفراسٹرکچر قائم کیا جا رہا ہے، 47 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے سکیورٹی اور نگرانی کے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، ڈیٹا اینالیٹکس، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز اور جدید کیمروں کے مربوط نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں، اسمارٹ سیف سٹیز منصوبوں سے پنجاب کے 19 اضلاع اور متعدد تحصیلیں مستفید ہوں گی، جدید نگرانی کے نظام سے بالآخر صوبے کی بڑی آبادی کو فائدہ پہنچے گا، کچے کے علاقوں میں پولیس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نئے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں،2 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے پولیس اسٹیشنز، پولیس پوسٹس اور پولیس پکٹس کی تعمیر کی تجویز شامل ہے،28 اضلاع میں کرائم سین یونٹس کے قیام کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے، کرائم سین یونٹس کے قیام پر 14 ارب 21 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، کرائم سین یونٹس جرائم کے شواہد کے سائنسی حصول اور تجزیے کو یقینی بنائیں گے، شواہد کے تحفظ، ذخیرہ اور منتقلی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔
چیف منسٹراسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام
چیف منسٹراسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو جدید فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، 2 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیتی پروگرام شروع کیا گیا، اب تک 5 ہزار نوجوان چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں، آئندہ مالی سال کے لیے چیف منسٹر سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام میں 26 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جارہےہیں، سی ایم اسکلڈ پنجاب پروگرام پر ایک ارب 44 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، اب تک 2 ہزار 200 افراد اسکلڈ پنجاب پروگرام سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، حکومت پنجاب نوجوانوں کی فنی مہارتوں میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ویمن ایمپاورمنٹ پروگرام
ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت ایک ارب روپےکی لاگت سے ڈے کیئر سینٹرز قائم کیے گئے،ڈے کیئر سینٹرز کے قیام سے اب تک 27 ہزار 252 خواتین مستفید ہو چکی ہیں، خواتین کی معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے نئے منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے، ویمن ایمپاورمنٹ پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال میں خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، پنجاب ویمن ایمپاورمنٹ پروگرام کے تحت خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے گا، ویمن ایمپاورمنٹ تھرو کمیونیکیشن اینڈ انٹرپرائز پروگرام کے لیے 2 ارب 35 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جنوبی پنجاب کی دیہی خواتین کو معاشی استحکام فراہم کرنے کے لیے لائیو اسٹاک اثاثے تقسیم کیے گئے، لائیو اسٹاک ایسٹ ٹرانسفر پروگرام کے تحت 2 ارب روپے کی لاگت سے 4 ہزار 385 دیہی خواتین مستفید ہوئیں، دیہی خواتین کو پائیدار ذریعہ معاش فراہم کرنے کے لیے لائیو اسٹاک سپورٹ پروگرام جاری رہے گا، مالی سال 27-2026 میں لائیو اسٹاک ایسٹ ٹرانسفر پروگرام کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،ڈیرہ غازی خان میں ویمن یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے،ڈی جی خان ویمن یونیورسٹی کے قیام پر تقریباً 55 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
محفوظ پنجاب
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے امن و امان کے قیام اور جرائم کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا،جدید ٹیکنالوجی اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے ریاستی رٹ کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے،”محفوظ پنجاب” وژن کے تحت امن و امان کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں، مالی سال 27-2026 میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے 252 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا،جرائم کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے جدید پولیسنگ نظام کو فروغ دیا جائے گا،حکومت پنجاب نے محفوظ اور پرامن معاشرے کے قیام کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لیا۔
سہولت بازار
پنجاب سہولت بازار اتھارٹی عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہی ہے،سہولت بازار اتھارٹی کے دائرہ کار میں توسیع کے لیے مالی سال 26-2025 میں 10 ارب روپے مختص کیے گئے، "سہولت آن دی گو” پروگرام کے تحت اشیائے ضروریہ شہریوں کی دہلیز تک بلا معاوضہ پہنچائی گئیں، آئندہ مالی سال میں پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کے لیے 19 ارب 34 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز۔ پنجاب سہولت بازار اتھارٹی کے ذریعے عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات جاری ہیں،معیاری اشیائے ضروریہ کی سرکاری نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے سہولت بازاروں کے نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے،قوتِ خرید میں بہتری اور عوامی ریلیف پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
خواتین کی آئی ٹی ٹریننگ
پنجاب بھر میں صنعت زارز کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب 43 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، پنجاب ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ کے تحت 41 ارب روپے خرچ کیے گئے، پی ایچ سی آئی پی کے ذریعے 15 لاکھ سے زائد افراد کو صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کی سہولیات فراہم کی گئیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خواتین کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار اور فیصلہ سازی میں مساوی مواقع کی فراہمی حکومت کی ترجیح قرار دی گئی ہے، پنجاب بھر میں خواتین کی آئی ٹی ٹریننگ کے لیے ایک ارب روپے خرچ کیے گئے،آئی ٹی ٹریننگ پروگرام سے 2 ہزار 400 خواتین مستفید ہوئیں، آئندہ مالی سال میں خواتین کی آئی ٹی تربیت کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز، خواتین وکلاء کے لیے پنجاب بھر میں لیڈی بار رومز کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا، لیڈی بار رومز منصوبے پر ایک ارب 40 کروڑ روپے لاگت آئے گی، خواتین وکلاء کو محفوظ اور سازگار پیشہ ورانہ ماحول کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، لیڈی بار رومز منصوبے کی تکمیل کے لیے مالی سال 2026-27 میں 33 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کیے گئے، لیڈی بار رومز منصوبے سے تقریباً 2 لاکھ افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے، اسکل انہانسمنٹ تھرو ہوم ریچ پروگرام کے تحت خواتین اور نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، ایس ای ایچ آر پروگرام پر 97 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، خواتین اور نوجوانوں کو روزگار کی جدید ضروریات کے مطابق پیشہ ورانہ مہارتیں سکھانے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔
آئمہ مساجد کو ماہانہ وظیفہ
آئمہ مساجد کو ماہانہ 25 ہزار روپے مالی معاونت فراہم کی گئی، آئمہ مساجد کی معاونت کے پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال میں 18 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
آئمہ مساجد کی مالی معاونت کے لیے 9 ارب 22 کروڑ روپے مختص کیے گئے، مالی معاونت پروگرام کے تحت 60 ہزار آئمہ مساجد مستفید ہوئے۔
اقلیتوں کے مذہبی مقامات کیلئے فنڈز
سماجی ترقی کے شعبے میں اقلیتوں، خواتین اور کمزور طبقات کی فلاح کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے، مالی سال 27-2026 میں سماجی شمولیت کے منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، گوردواروں، گرجا گھروں، مندروں، قبرستانوں اور مذہبی مقامات کی بحالی پر 2 ارب 11 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، اقلیتی برادری کے مذہبی و تاریخی مقامات کی تعمیر و ترقی کے لیے آئندہ مالی سال میں 5 ارب روپے مختص کیئے جا رہے ہیں،وزیراعلیٰ مائنارٹی کارڈ کے تحت 3 ارب روپے کی لاگت سے مستحق اقلیتی خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی گئی، سی ایم مائنارٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 4 ارب روپے کی لاگت سے نئے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں، اقلیتی برادری کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے،
سدرن پنجاب پاورٹی ایلیوی ایشن پروگرام
جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے خاتمے کے لیے سدرن پنجاب پاورٹی ایلیوی ایشن پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے، 25 ارب روپے کی لاگت سے جاری منصوبے سے 6 ہزار 985 مستحق خاندان مستفید ہوئے ہیں، مالی سال 27-2026 میں سدرن پنجاب پاورٹی ایلیوی ایشن پروگرام کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، نوجوانوں کی معاشی خودمختاری کے لیے اسکلز ٹریننگ پروگرام کے تحت 7 ہزار 500 نوجوانوں کو تربیت دی جائے گی، ہنر مندی کی تربیت کے لیے رواں مالی سال میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے، اقلیتی طلبہ کے لیے 50 کروڑ روپے کی لاگت سے تعلیمی وظائف اور میرٹ اسکالرشپس جاری کی گئیں، 43 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے 32 ہزار 600 مستحق مسیحی افراد کو امدادی رقوم دی گئیں،
خصوصی افراد کی فلاح
خصوصی افراد کی معاونت کے لیے 4 ارب 83 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، ایک لاکھ افراد مستفید ہوئے، آئندہ مالی سال میں خصوصی افراد کی فلاح کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ خصوصی افراد کو مصنوعی اعضاء، سماعتی آلات اور معاون سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے خرچ کیے گئے۔18 ہزار 803 خصوصی افراد مصنوعی اعضاء اور معاون آلات کی سہولت سے مستفید ہوئے،آئندہ مالی سال میں خصوصی افراد کی معاون سہولیات کے پروگرام کے لیے 3 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔خصوصی افراد کے معاونت پروگرام سے 40 ہزار مزید افراد مستفید ہوں گے،
لائیو سٹاک
لائیو سٹاک کارڈ پروگرام کے تحت 3 ارب روپے سے 29 ہزار 265 مویشی پال افراد کو مالی معاونت فراہم کی گئی، آئندہ مالی سال میں لائیو اسٹاک کارڈ پروگرام کے لیے 4 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،مویشی پال حضرات کی معاونت کے لیے لائیو اسٹاک کارڈ پروگرام کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے گا۔
لائیو اسٹاک سپورٹ پروگرام کے تحت 3 ارب 12 کروڑ روپے سے 10 ہزار دیہی خواتین میں دودھ دینے والے جانور تقسیم کیے جائیں گے، دیہی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے دودھ دینے والے مویشی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے، مویشیوں کی بہتر طبی سہولیات کے لیے 4 ارب 85 کروڑ روپے کی لاگت سے 146 ویٹرنری ہسپتال قائم کیے جائیں گے،10 ارب 17 کروڑ روپے سے 482 موبائل ویٹرنری ڈسپنسریز شروع کرنے کی تجویز شامل ہے،دور دراز علاقوں میں مویشیوں کے علاج کے لیے موبائل ویٹرنری سروسز کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا، مویشی پال حضرات کی تربیت کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش، 2 لاکھ 40 ہزار مویشی پال افراد کو جدید طریقہ پرورش اور کاروباری مہارتوں کی تربیت دی جائے گی، لائیو اسٹاک کی نسل اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے، 2 ارب روپے کی لاگت سے 4 ہزار 385 دیہی خواتین کو لائیو اسٹاک اثاثے فراہم کیے گئے،لاہور:آئندہ مالی سال میں لائیو اسٹاک کارڈ فیز ٹو کے لیے 4 ارب 44 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،لائیو اسٹاک کارڈ فیز ٹو کے تحت 3 لاکھ مویشی پال افراد کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
راشن کارڈ
مریم نواز سوشل سکیورٹی راشن کارڈ پروگرام پر 24 ارب 87 کروڑ روپے خرچ کیے گئے،صنعتی کارکنوں اور کم آمدن والے خاندانوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے راشن کارڈ پروگرام جاری رہا،مالی سال 27-2026 میں مریم نواز سوشل سکیورٹی راشن کارڈ کے لیے 40 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دھی رانی پروگرام
دھی رانی پروگرام کے تحت 5 ہزار مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے لیے 1 ارب 77 کروڑ روپے خرچ کیے گئے،، آئندہ مالی سال میں دھی رانی پروگرام کے لیے 1 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے۔
اولڈ ایج ہومز ’عافیت‘
پنجاب کے مختلف اضلاع میں اولڈ ایج ہومز "عافیت” کے قیام کے لیے 2 ارب 6 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،مریم کو بتائیں پروگرام کے تحت ایک ارب روپے کی لاگت سے 13 ہزار 757 شہریوں کو مالی معاونت فراہم کی گئی۔
رمضان نگہبان
رمضان نگہبان پیکج کے تحت رمضان 2026 میں 39 ارب روپے خرچ کیے گئے، رمضان نگہبان پیکج کے ذریعے تقریباً 34 لاکھ مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے فی خاندان مالی امداد فراہم کی گئی،
زراعت
اکنامک ٹرانسفارمیشن وژن کے تحت آبی زراعت کے فروغ کے لیے 80 ارب روپے کی سرکاری سرمایہ کاری کی جائے گی۔آبی زراعت کے شعبے میں تین شرمپ اسٹیٹس، ایکوا بزنس ہبز اور فش مارکیٹس قائم کی جائیں گی،ایکوا کلچر منصوبوں کے نتیجے میں 30 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے،آبی زراعت کے منصوبوں سے سالانہ 235 ملین ڈالر سے زائد کی پیداوار اور برآمدی آمدن حاصل ہوگی،حکومت محدود وسائل کو ترقی، برآمدات اور روزگار کے نئے مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے،نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کا ہدف مقرر ہے،مالی سال 26-2025 کے دوران سماجی تحفظ کے شعبے میں 361 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
ستھرا پنجاب، کھیلتا پنجاب، محفوظ پنجاب
"کھیلتا پنجاب، محفوظ پنجاب اور ستھرا پنجاب” وژن کے تحت سماجی شعبے میں بڑے اقدامات کیے گئے، پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری منصوبہ 20 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا، پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کے تحت 11 کروڑ سے زائد افراد کا سماجی و معاشی ڈیٹا جمع کیا گیا، فلاحی پروگراموں کی شفاف اور مؤثر ہدف بندی کے لیے PSER ڈیٹا بیس تشکیل دیا گیا، حکومت پنجاب سوشیو اکنامک رجسٹری کو باقاعدہ اتھارٹی میں تبدیل کرنے جا رہی ہے،مالی سال 27-2026 میں PSER کی توسیع کے لیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی تنظیمِ نو اور استعداد کار بڑھانے کے لیے 2 ارب روپے مختص کیئے گئے، سماجی تحفظ کے پروگراموں کی مؤثر نگرانی اور شفافیت کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔
ہمت کارڈ پروگرام
ہمت کارڈ پروگرام کو رواں مالی سال کے اہم فلاحی منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہر شہری کو ریاستی معاونت کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا ہے،پنجاب حکومت سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مربوط اور مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان
اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت لائیو میٹ پروگرام متعارف کرایا جائے گا، لائیو میٹ پروگرام میں 19 ارب 10 کروڑ روپے کی حکومتی معاونت فراہم کی جائے گی، لائیو میٹ پروگرام کے ذریعے 65 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہونے کی توقع ہے،گوشت کی برآمدات میں 200 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، لائیو میٹ پروگرام سے 15 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،لائیو ملک پروگرام کے تحت دودھ کی پیداوار اور پراسیسنگ کے فروغ کے اقدامات کیے جائیں گے، 25 ارب 90 کروڑ روپے کے منصوبوں سے ڈیری سیکٹر کی ترقی کو فروغ دیا جائے گا، لائیو ملک پروگرام کے نتیجے میں دودھ کی برآمدات میں تین گنا اضافے کی توقع ہے ، ڈیری سیکٹر میں درآمدی بل میں 40 ملین ڈالر تک کمی متوقع ہے، دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کی آمدن میں دو گنا اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
زراعت، لائیو اسٹاک اور آبی زراعت کو پنجاب کی معیشت کا بنیادی ستون قرار دیا گیاہے،غذائی تحفظ، دیہی روزگار اور برآمدات میں ان شعبوں کا کلیدی کردار ہے ،زراعت، لائیو اسٹاک اور آبی زراعت کیلئے 132 ارب 54 کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں ، آئندہ تین برسوں میں اکنامک ٹرانسفارمیشن اقدامات کے تحت 481 ارب روپے کی حکومتی سرمایہ کاری متوقع،زرعی ویلیو ایڈیشن، لائیو اسٹاک ویلیو اسٹریم اور آبی زراعت کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ،
آبی زراعت اور ماہی پروری کے فروغ کے لیے 111 ارب 97 کروڑ روپے کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔شرمپ فارمنگ اور شرمپ اسٹیٹس منصوبے آبی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے،آئندہ مالی سال میں 9 ارب 66 کروڑ روپے سے ماڈل ایکوا بزنس ہبز قائم کیے جائیں گے،47 ارب 40 کروڑ روپے کی لاگت سے جدید فش مارکیٹ منصوبے شروع کیے جائیں گے،29 ارب روپے کی لاگت سے نیچر انکلیو منصوبہ بھی آئندہ سال شروع کیا جائے گا،مری کے علاقے مسروٹ میں 3 ارب روپے سے ٹراؤٹ ہیچری کی اپ گریڈیشن کی جائے گی،ماہی پروری کے نئے منصوبوں سے روزگار، برآمدات اور مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔
اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت سرگودھا، خانیوال، اوکاڑو اور بھکر میں ایگرو پروسیسنگ پارکس قائم کیےجائیں گے،ایگرو پروسیسنگ پارکس کے قیام پر 60 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی، اگلے تین سال میں ایگرو پروسیسنگ سیکٹر میں 500 سے زائد نئی صنعتیں قائم ہوں گی، ایگرو پروسیسنگ منصوبوں کے نتیجے میں 20 ارب روپے سے زائد نجی سرمایہ کاری متوقع ہے،ایگرو پروسیسنگ پارکس سے تقریباً 20 ہزار براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،زرعی میکانائزیشن کے فروغ کے لیے 135 ارب روپے کا جامع پروگرام متعارف کرایا جائے گا،زرعی میکانائزیشن پروگرام سے زرعی پیداوار میں 120 ارب روپے کے اضافی فوائد حاصل ہوں گے،زرعی مشینری کی درآمدات میں 70 فیصد تک کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،زرعی میکانائزیشن منصوبے سے 48 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے،ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے لیے گندم سے متعلق 20 ارب روپے کے منصوبے شروع کیے جائیں گے،ویٹ ویلیو انہانسمنٹ منصوبوں سے سالانہ 289 ملین ڈالر کی اضافی معاشی قدر پیدا ہوگی،گندم ویلیو چین منصوبوں سے دو لاکھ کسان مستفید ہوں گے،کسانوں کی آمدن میں 30 سے 50 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،آم، کینو اور آلو پراسیسنگ منصوبوں پر 15 ارب روپے کی سرکاری سرمایہ کاری کی جائے گی،فروٹ اور ویجیٹیبل پراسیسنگ منصوبوں سے 20 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے،پراسیسنگ سیکٹر میں 48 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متحرک ہونے کی توقع ہے،زرعی پراسیسنگ منصوبوں کے نتیجے میں 200 ملین ڈالر کی اضافی برآمدات حاصل ہوں گی، وزیراعلیٰ پنجاب ہرڈ ٹرانسفارمیشن پروگرام پر 5 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
کسان کارد پروگرام
آئندہ مالی سال میں کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،10 لاکھ کسانوں کو کھاد، بیج، زرعی ادویات اور دیگر زرعی مداخل کی خریداری کے لیے سہولت فراہم کی جائے گی، گرین ٹریکٹر پروگرام کے تحت رواں سال 5 ارب روپے سے 9 ہزار 900 کسانوں کو ٹریکٹرز فراہم کیے گئے،9 ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے مزید 9 ہزار 300 کسانوں کو ہائی پاور ٹریکٹرز دیے گئے،گرین ٹریکٹر پروگرام کے اگلے مرحلے میں 10 ہزار لو پاور ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیےجائیں گے، 7 ارب روپے کی لاگت سے 10 ہزار گرین لو پاور ٹریکٹرز کسانوں کو دیے جائیں گے، 9 ارب 90 کروڑ روپے سے مزید 6 ہزار 500 ہائی پاور ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیے جائیں گے، واٹر ایفیشنٹ ایگریکلچر پروگرام پر 7 ارب 81 کروڑ روپے خرچ، ڈیڑھ لاکھ کسان مستفید ہوئے،8 ارب 82 کروڑ روپے سے 7 ہزار 86 زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے،
پنجاب کلائمیٹ ریزیلینٹ پروگرام کے تحت 36 ارب 12 کروڑ روپے سے جدید زرعی مشینری تک رسائی دی جائے گی،آئندہ مالی سال میں 2 ارب 70 کروڑ روپے سے 3 ہزار زرعی گریجویٹس کو انٹرن شپ پروگرام میں شامل کیا جائے گا،کسانوں کو ایک ہی چھت تلے سہولیات کی فراہمی کے لیے مزید 10 ماڈل ایگریکلچر مالز قائم کیے جائیں گے، 1 ارب 82 کروڑ روپے کی لاگت سے صوبے میں جدید ماڈل ایگریکلچر مالز کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
ستھرا پنجاب
ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صوبہ بھر میں صفائی مہم پر عملدرآمد جاری ہے،ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 270 ارب روپے فراہم کیے گئے،صوبے کے 12 کروڑ شہریوں کو بہتر صفائی سہولیات فراہم کی گئیں،ستھرا پنجاب پروگرام سے ماحول کو مزید صاف اور صحت بخش بنانے میں مدد ملی، آئندہ مالی سال میں ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 170 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔پارکس کی بہتری کے منصوبوں کیلئے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،
سرمایہ کاری
نجی شعبے سے 134 ارب روپے کی اضافی سرمایہ کاری متوقع ہے،زرعی و دیہی شعبوں میں مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 615 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا،حکومتی اقدامات سے پیداوار، برآمدات اور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ متوقع ہے،دیہی خوشحالی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا عزم کا اظہار کیا گیاہے ۔
صاف پانی
پنجاب کے 18 اضلاع میں صاف پانی منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے،چیف منسٹر صاف پانی پروگرام پر 45 ارب روپے لاگت آئے گی، نئے مالی سال میں صاف پانی منصوبوں کیلئے 8 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، شہریوں کو محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
چیف منسٹر رورل سینیٹیشن پروگرام
چیف منسٹر رورل سینیٹیشن پروگرام کا 300 ارب روپے کی لاگت سے آغاز کیا جائے گا، دیہی علاقوں میں صفائی ستھرائی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے بڑے منصوبے متعارف کرایا گیا۔
سی ایم سسٹین ایبل گولز
پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے 5 ارب روپے سے سی ایم سسٹین ایبل گولز پروگرام شروع ہوگا، عوامی فلاحی منصوبوں کو مزید تقویت دینے کیلئے خصوصی فنڈز مختص کیئے گئے ہیں۔
چیف منسٹر واٹسان پروگرام
چیف منسٹر واٹسان پروگرام 4 ارب روپے کی لاگت سے متعارف کرانے کی تجویزہے،واٹسان پروگرام کے تحت پانی اور صفائی کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
مری ڈویلپمنٹ پروگرام
مری ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 10 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں،مری میں شہری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کیلئے منصوبوں کا آغاز کیا جا رہاہے ،۔
پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ پروگرام 62 ارب روپے کی لاگت سے جاری ہے۔
پنجاب کے 10 درمیانے درجے کے شہروں میں پانی، سیوریج اور سالڈ ویسٹ منصوبے جاری ہیں۔
شہری خدمات کی بہتری کیلئے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کیا جارہاہے ۔
ڈریمز منصوبہ راولپنڈی اور بہاولپور میں 64 ارب 48 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے۔
راولپنڈی اور بہاولپور میں شہری ترقی کے بڑے منصوبوں پر پیشرفت ہو ئی ہے ،پنجاب رورل سسٹین ایبل واٹر سپلائی اینڈ سینیٹیشن پراجیکٹ 96 ارب 20 کروڑ روپے سے جاری کیے گئے،پنجاب کے 16 اضلاع کے تقریباً 2 ہزار دیہات منصوبے سے مستفید ہوں گے۔
پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام
لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام 137 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے جاری ہے، لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے نئے مالی سال میں 10 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں ،شہری انفراسٹرکچر اور بلدیاتی خدمات کی بہتری حکومت کی ترجیح قرار دی گئی ہے ۔
پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز 505 ارب روپے کی لاگت سے کیا گیا،سیوریج، اسٹارم واٹر ڈرینج اور گلیوں کی پختگی کے منصوبوں پر کام جاری ہے، پنجاب کے 66 بڑے شہر پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام سے مستفید ہوں گے،پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے آئندہ مالی سال میں 31 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔مثالی گاؤں پروگرام 59 ارب روپے کی لاگت سے جاری ہیں۔ پنجاب کے 10 ڈویژنز کے 485 دیہات کو ماڈل دیہات میں تبدیل کیا جائے گا،مثالی گاؤں پروگرام کیلئے نئے مالی سال میں 10 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اپنی چھت اپنا گھر
"اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے تحت ایک لاکھ 73 ہزار ہاؤسنگ قرضے جاری کیئےگئے،اپنی چھت اپنا گھر پروگرام پر اب تک 255 ارب روپے خرچ کیے جا چکے،پروگرام کے تحت ایک لاکھ ایک ہزار سے زائد گھر مکمل ہو چکے،32 ہزار سے زائد گھر زیر تعمیر ہیں، آئندہ مالی سال میں 2 لاکھ افراد کو 300 ارب روپے کے بلاسود قرضے دینے کا منصوبہ ہے،”اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہے۔
صنعتی ترقی
صنعتی ترقی کے منصوبوں سے 29400 براہ راست ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے،حکومتی اقدامات سے 5 ارب 60 کروڑ ڈالر کی اضافی برآمدی صلاحیت حاصل ہونے کی توقع ہے،اربوں روپے کی نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے اقدامات تجویز کیئے گئے ہیں، انڈسٹریل گروتھ ایکسیلیریٹرز پروگرام کیلئے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ، 2 صنعتی اسٹیٹس اور 14 ایگرو پروسیسنگ پارکس کو جدید مشینری کی فراہمی ہوگی،صنعتی شعبے کو آلات اور سولر توانائی کی مد میں معاونت دی جائے گی۔
ای بز اینڈ ای کامرس
ای بز اور ای کامرس ریڈی نیس پروگرام کیلئے 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، ای کامرس ہبز کے قیام سے کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی،ڈیجیٹل تجارت کے فروغ کیلئے 4 ای کامرس مراکز قائم کیے جائیں گے،2 ہزار کاروباری اداروں کو آن لائن تجارت اور برآمدات کے مواقع میسر آئیں گے، ڈیجیٹل ذرائع سے اب تک 6 ارب 90 کروڑ روپے کی وصولیاں ممکن بنائی جا چکی ہیں، ای کامرس اقدامات سے سالانہ 2 کروڑ 45 لاکھ ڈالر کی اضافی برآمدات متوقع ہیں۔
باغبانی
باغبانی اور فلوریکلچر کے فروغ کیلئے 30 کروڑ روپے کی مالی معاونت کی تجویز ہے،کولڈ چین اور لاجسٹکس نظام کی بہتری سے فلوریکلچر سیکٹر کو فروغ ملے گا،فلوریکلچر پروگرام سے 100 سے زائد کاشتکار مستفید ہوں گے۔
پنک سالٹ
پنک سالٹ ویلیو ایڈیشن فنانسنگ پروگرام کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،پنک سالٹ سے وابستہ 200 معدنی و صنعتی اداروں کو رعایتی مالی معاونت فراہم کی جائے گی،معدنی وسائل سے معاشی فوائد کے حصول کیلئے ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔
صاف پانی
صاف پانی اور سینیٹیشن کی سہولیات کیلئے 507 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز،واٹر، سینیٹیشن اور اربن ڈویلپمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 187 ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے، شہری ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
فلم سٹی
پنجاب میں ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لیے فلم سٹی پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے،فلم سٹی پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 55 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،پوسٹ پروڈکشن یوٹیلٹی بلاک کے قیام پر 14 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، فلم انڈسٹری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، فلم اینڈ میوزک اسکول کے قیام کی تجویز فلم سٹی منصوبے کا حصہ بن گئی،جدید کنونشن سینٹر کے قیام کے لیے خطیر فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے،ایڈمنسٹریٹو اینڈ اسٹوڈیو کمپلیکس کے قیام کا منصوبہ بھی فلم سٹی پروگرام میں شامل ہے، ٹریڈ ہب اور بیک لاٹس کی تعمیر کے لیے مجموعی طور پر 31 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، فلم سٹی منصوبہ ثقافتی اور تخلیقی معیشت کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا، فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
موسمیاتی تبدیلی
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت جامع اقدامات کر رہی ہے، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کو حکومتی ترجیحات میں شامل کر لیا گیا، آئندہ مالی سال میں محکمہ ماحولیات کے لیے 17 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،ماحولیاتی شعبے میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے خطیر فنڈز رکھے گئے ہیں، اسموگ کے مؤثر تدارک کے لیے مختلف شعبوں میں مربوط اقدامات کیے گئے،مالی سال 2025-26 میں سموگ سے نمٹنے کے لیے 123 ارب روپے خرچ کیے گئے،اسموگ کے خلاف اقدامات پر گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ فنڈز خرچ کیے گئے، پنجاب کلائمیٹ واچ کے تحت 67 کوئیک رسپانس سینٹرز قائم کیے گئے،اسموگ کی نگرانی کے لیے 8 ہزار 500 اے آئی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے، کوئیک رسپانس سینٹرز کے قیام سے شکایات کے ازالے کی شرح 96 فیصد تک پہنچ گئی، سپارکو کی نگرانی اور جدید زرعی مشینری کی فراہمی سے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں مدد ملی، حکومت پنجاب ماحولیاتی پائیداری اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافے کے لیے پرعزم ہے۔
