ایرانی چھ رکنی مذاکراتی وفد محمد باقر قالیباف کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ روانہ

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد مذاکراتی عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جس کے تحت چھ رکنی اعلیٰ سطحی ایرانی وفد محمد باقر قالیباف کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی "اسنا” کے مطابق وفد کا یہ دورہ فریق مخالف، خصوصاً امریکا، کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے اور مستقبل کے جامع معاہدے کے لیے راہ ہموار کرنے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے روانگی سے قبل کہا کہ موجودہ دورہ دراصل اس بات کا جائزہ لینے کے لیے ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اپنی ذمہ داریوں پر کس حد تک عمل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حتمی اور جامع معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات اسی وقت شروع ہوں گے جب مفاہمتی یادداشت کی دیگر شقوں پر عملی پیش رفت سامنے آئے گی۔

سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے والے وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے علاوہ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کے نائب برائے بین الاقوامی امور علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، نائب وزیر تیل اور نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ کے ساتھ نائب وزیر خارجہ حماد کعبی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پابندی کی ہے، تاہم امریکا اور اس کے اتحادی لبنان میں جنگ بندی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق معاہدے کی پہلی شق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے سے متعلق تھی، جس کے تحت واشنگٹن پر لازم تھا کہ وہ اسرائیل کو جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں روکنے پر مجبور کرے، مگر ایسا نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ اگر فریق مخالف اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا تو اس کے نتیجے میں پورا معاہدہ مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ بقائی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت باہمی ذمہ داریوں اور وعدوں پر مبنی ہے اور کسی ایک فریق کی جانب سے وعدہ خلافی پورے مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے