غزہ پر نئے اسرائیلی حملے، الجزیرہ کے صحافی خاندان پر دوسرا بڑا صدمہ، 4 سالہ بچی سمیت متعدد افراد شہید

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جنگ بندی کے باوجود جاری ہے اور تازہ حملوں میں دو کمسن بچیوں اور الجزیرہ کے کیمرہ مین سمیت کم از کم چھ فلسطینی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد بھی غزہ میں تقریباً روزانہ فضائی حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ہفتہ کی صبح غزہ شہر میں مقامی وقت کے مطابق تقریباً دو بجے ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد علاقے میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے جبکہ ملبے اور خون آلود کنکریٹ کے ٹکڑے ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔ اس حملے میں چار سالہ زینا صفادی اور ان کی 14 سالہ بہن لانا صفادی جاں بحق ہو گئیں۔ دونوں بہنوں کی لاشیں شفا اسپتال منتقل کی گئیں جہاں اہل خانہ غم سے نڈھال دکھائی دیے۔

بچیوں کے کزن محمد صفادی، جو خود بھی حملے میں زخمی ہوئے، نے بتایا کہ وہ اپنے گھر میں موجود تھے جب اچانک بغیر کسی پیشگی وارننگ کے میزائل ان کے گھر پر آ گرا۔ ان کے مطابق ان کی اہلیہ بھی اس حملے میں زخمی ہوئیں۔ محمد صفادی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جنگ بندی اور مذاکرات کی بات کرتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام شہری مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک عام شہری ہیں اور کبھی کسی ہتھیار کو ہاتھ تک نہیں لگایا، پھر بھی ان کے خاندان کو اس تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیلی فوج نے اس واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ حملے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہے۔

اسی روز شام کے اوقات میں وسطی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ میں ایک اور فضائی حملے میں الجزیرہ کے کیمرہ مین احمد وشاح سمیت تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ الجزیرہ نیٹ ورک نے اپنے کیمرہ مین کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ احمد وشاح اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔

یہ سانحہ احمد وشاح کے خاندان کے لیے دوسرا بڑا صدمہ ہے، کیونکہ ان کے بھائی محمد وشاح، جو الجزیرہ کے نامہ نگار تھے، رواں سال اپریل میں ایک اسرائیلی حملے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔

الاقصیٰ اسپتال کے حکام کے مطابق ہفتہ کے روز ہونے والے مزید تین فضائی حملوں میں مجموعی طور پر چار افراد جاں بحق اور کم از کم ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹے تک کارروائیاں جاری رکھیں۔

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غزہ میں مسلسل حملوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا موقف ہے کہ وہ عسکری اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے، تاہم فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ ان حملوں میں بڑی تعداد میں عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے