امریکا کا ایران پر ایک اور فضائی حملہ، فوجی تنصیبات اور ڈرون مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکا نے ایران کے خلاف ایک بار پھر فضائی کارروائی کرتے ہوئے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران ایران کے فوجی نگرانی کے نظام، مواصلاتی مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ فضائی حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر کیے گئے، جن کا مقصد خطے میں امریکی اور بین الاقوامی بحری مفادات کا تحفظ اور ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے جزائر سرک اور قشم میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جزیرہ سرک میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا ہے، تاہم ایرانی حکام نے ابھی تک حملوں سے ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے ہفتے کی صبح بھی ایران میں فضائی حملہ کیا تھا۔ ایران نے اس کارروائی کو ناکام بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے جواب میں خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے