میڈیا انفلوئنسرز سے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی ملاقات، بھارت کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: ایک اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار نے مختلف میڈیا انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل میڈیا نمائندوں کے ساتھ خصوصی نشست میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال، بھارت کی پالیسیوں اور پاکستان کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال، مقبوضہ کشمیر، اطلاعاتی جنگ اور قومی سلامتی سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بریفنگ میں کہا گیا کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے خطے، بالخصوص پاکستان، میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ بھارتی قیادت زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ ذرائع کے مطابق بریفنگ میں دعویٰ کیا گیا کہ ہندوتوا نظریے نے بھارت کے سیکولر تشخص کو متاثر کیا ہے اور ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی اور عدم برداشت داخلی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ "اکھنڈ بھارت” کا تصور توسیع پسندانہ عزائم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ بھارت میں آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بریفنگ کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی فوج اور سیاسی نظام پر مذہبی سیاست کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے باعث ملک کے اندر تقسیم اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ بریفنگ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں سخت سیکیورٹی انتظامات نافذ ہیں اور کشمیری عوام طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ بھارت آزادی کی مختلف تحریکوں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس کے دوران سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بھارتی پالیسی ساز ایک مستحکم، خوشحال اور ترقی کرتا ہوا پاکستان اپنے لیے چیلنج سمجھتے ہیں، جبکہ بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقے پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف رہتے ہیں۔

بریفنگ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بعض قیادت کے حوالے سے بھی الزامات عائد کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مذکورہ تنظیم یا اس کی قیادت کا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اجلاس کے اختتام پر سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاستِ پاکستان اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا مداخلت سے مرعوب نہیں ہوگی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے