بابا رام دیو کا مودی حکومت کو انتباہ، مسائل حل نہ ہوئے تو دوبارہ سڑکوں پر آنے کا عندیہ

معروف بھارتی یوگا گرو بابا رام دیو نے طلبہ کے احتجاج اور سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو مسائل فوری حل کرنے کا مشورہ دیا۔ رام دیو نے خبردار کیا کہ تاخیر سے احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق رام دیو نے پتنجلی میں صحافیوں سے گفتگو کی۔ یہ گفتگو بھارت کے 80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ہوئی۔

رام دیو نے کہا کہ بھارت کے کئی اسکولوں اور کالجوں میں بنیادی سہولتیں موجود نہیں۔ ان کے مطابق بعض اداروں میں اساتذہ کی کمی ہے۔ کئی مقامات پر بجلی اور پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔ انہوں نے بیت الخلاء کی مناسب سہولت نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی۔ رام دیو نے امتحانات میں نقل کی شکایات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں امتحانی پرچے لیک ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔

رام دیو نے سرکاری ملازمتوں کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے انتخابی عمل میں مبینہ بدعنوانی اور رشوت کے الزامات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ملازمتوں میں بھاری رشوت کے بغیر تقرری مشکل ہے۔ رام دیو نے ذات اور مذہب کی بنیاد پر مبینہ امتیاز پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو ان مسائل کا فوری حل تلاش کرنا چاہیے۔

رام دیو نے مودی حکومت سے مبینہ گھپلوں اور بدعنوانی کی روک تھام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسائل حل نہ ہوئے تو احتجاج مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاہم رام دیو نے تشدد اور انتشار کی حمایت سے انکار کیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے قانون اور آئین کی حدود میں رہنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنے حقوق کے لیے آواز ضرور اٹھائیں۔ تاہم انہیں تشدد اور انارکی سے گریز کرنا چاہیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے