عظیم لوک گلوکار عالم لوہار کی 47ویں برسی آج منائی جا رہی ہے، فن آج بھی زندہ ہے

پاکستان کے عظیم لوک گلوکار عالم لوہار کی 47ویں برسی آج 3 جولائی کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ ان کی وفات کو تقریباً نصف صدی گزر چکی ہے، مگر ان کی منفرد آواز، چمٹے کی مخصوص تھاپ اور پنجابی لوک و صوفیانہ موسیقی کا انداز آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہے۔

یکم مارچ 1928 کو ضلع گجرات میں پیدا ہونے والے عالم لوہار نے کم عمری ہی میں گلوکاری کا آغاز کیا۔ رنگ برنگا لباس، ہاتھ میں چمٹا اور منفرد طرزِ ادا نے انہیں پاکستان کے مقبول ترین لوک فنکاروں میں شامل کر دیا۔ میلوں، عرسوں اور ثقافتی تقریبات میں ان کی پرفارمنس ہزاروں مداحوں کی توجہ کا مرکز بنی رہتی تھی۔

عالم لوہار نے پنجابی لوک موسیقی کو نئی شناخت دی اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے گائے ہوئے لازوال گیت "جگنی”، "بول مٹی دیا باویا” اور "واجاں ماریاں” آج بھی لوک موسیقی کے شاہکار تصور کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے صرف لوک گیتوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ صوفی شعرا کے کلام کو بھی اپنی منفرد آواز میں پیش کیا۔ میاں محمد بخش، سلطان باہو اور دیگر صوفی بزرگوں کے کلام کو عوام تک پہنچانے میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

عالم لوہار کی شہرت پاکستان سے باہر بھی پھیلی۔ انہوں نے برطانیہ، کینیڈا، ناروے، جرمنی اور دیگر ممالک میں کامیاب پرفارمنسز کے ذریعے پاکستانی ثقافت اور پنجابی لوک موسیقی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت غیر ملکی سامعین سے بھی بھرپور داد حاصل کی۔

حکومتِ پاکستان نے لوک موسیقی کے فروغ میں ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف میں 1979 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا، جو ملکی ثقافتی ورثے کے لیے ان کی خدمات کا باقاعدہ اعتراف تھا۔

3 جولائی 1979 کو شامکے بھٹیاں کے قریب ایک ٹریفک حادثے میں عالم لوہار اس دنیا سے رخصت ہو گئے، تاہم ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔ ان کے صاحبزادے عارف لوہار اپنے والد کی لوک موسیقی کی روایت کو کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں اور پاکستان کی ثقافتی شناخت کو دنیا بھر میں اجاگر کر رہے ہیں

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے