ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کی تقریبات کے آغاز پر دنیا بھر سے آئے ہوئے سرکاری وفود کے ساتھ افغانستان کی طالبان حکومت کا اعلیٰ سطحی وفد بھی تہران پہنچا اور تعزیتی مراسم میں شرکت کی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو تہران کے امام خمینی جامع مصلیٰ منتقل کیا گیا، جہاں مختلف ممالک کے نمائندوں نے فاتحہ خوانی کی، ایرانی حکام سے تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
افغانستان کی طالبان حکومت کے وفد کی قیادت نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر اخوند اور وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کی۔ وفد نے ایرانی حکام اور شہید رہنما کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے اظہارِ تعزیت کیا اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
اسی دوران افغانستان میں طالبان مخالف تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود بھی تہران پہنچے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے بھی تعزیتی تقریبات میں شرکت کی، جسے افغان سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تعزیتی تقریبات میں افغانستان کی شیعہ سیاسی جماعت حزبِ وحدتِ اسلامی کے رہنما محمد محقق نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت اور دعائے مغفرت پیش کی۔
