غیر ملکی خواتین سے زیادتی اور اغوا کیس، اغواکاروں کی گاڑی کی ٹکر سےمتاثرہ گاڑی کے مالک نے مقدمہ درج کرا دیا

لاہور میں غیر ملکی خواتین سے زیادتی اور اغوا کیس میں ایک اور موڑ  آگیا، اغواکاروں کی گاڑی کی ٹکر سے متاثرہ گاڑی کے مالک نے مقدمہ درج کرا دیا ۔

گاڑی کے ڈرائیور عثمان کی مدعیت میں درج مقدمے کے مطابق وہ نجی سوسائٹی سے بھٹہ چوک جا رہا تھا کہ ائیرپورٹ روڈ پر گاڑی نے ٹکر ماری ۔ اس ٹکر سے گاڑی کو 3 لاکھ روپے کا نقصان ہوا  اور گاڑی والا فرار ہوگیا۔

عثمان کی جانب سے ون فایئو پر اطلاع کے بعد ہی پولیس موقع پرپہنچی تھی ۔حادثے کے بعد خواتین نے کار سے اترکرایک دکان میں پناہ لے لی  تھی۔

اس سے قبل ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بتایا کہ غیرملکی خواتین کے اغوا کے کیس میں 8 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور  کے مطابق اغوا میں استعمال کی گئی گاڑی اور اس کے مالک کی بھی شناخت ہوگئی،ملزمان کا تعلق لاہور، سرگودھا اور دیگر علاقوں سے تھا۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ لاہور میں جس مکان پر چھاپہ مارا گیا، وہاں کچھ لڑکے کرائے پر رہتے تھے،بتایا گیا کہ شاید ڈپٹی پرائم منسٹر کا کوئی رشتہ دار ہے، تصدیق کے لیے فیملی سے رابطہ کیا اور انہیں سب بتایا ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کیس کو میرٹ پر دیکھنا ہے جس نے گناہ کیا ہے اس کو سزا ملے گی۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے خواتین کے خود اغواکاروں کے چنگل سے نکلنے کی خبروں کی بھی تردیدکرتے ہوئے کہا کہ خواتین کا بیان ہے کہ انہیں پنجاب پولیس نے بازیاب کرایا، ایک ملزم گاڑی چلاتے ہوئے خواتین کو ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا، بھٹہ چوک کے قریب خواتین کی ملزم رضا ڈار سے ہاتھا پائی ہوئی،گاڑی کا حادثہ ہوا، خواتین نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور قریبی اسٹور میں پناہ لی۔

ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق پولیس نے لڑکیوں کو ریسکیو کیا، دو خواتین ایس پیز نے غیر ملکی خواتین کو میڈیکل کروانے کے لیے راضی کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے