اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان سے اختلاف کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت دنیا کے واحد رہنما ہیں جو اسرائیل کے حقیقی حامی ہیں۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگرچہ ان کے اور جے ڈی وینس کے درمیان بہترین تعلقات ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان کی ہر بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے سب سے بڑے دوست ہیں اور وہ ان کی حمایت کرتے ہیں، لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ اسرائیل کا صرف ایک ہی عالمی اتحادی ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے دنیا بھر میں متعدد قریبی شراکت دار موجود ہیں، جن میں بھارت کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ارب چالیس کروڑ آبادی والا ملک اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف ممالک کی حکومتیں دفاع، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کی خواہش رکھتی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بعض ممالک میں عوامی رائے اور میڈیا اسرائیل مخالف ہو سکتا ہے، تاہم کئی عالمی رہنما نجی سطح پر اسرائیل سے دفاعی، تکنیکی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف ممالک کے رہنما ان سے رابطہ کرکے اسرائیل کی عسکری مہارت، سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کے خواہاں ہوتے ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل سائبر ٹیکنالوجی میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہے، اسی لیے کئی ممالک اس کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اختلافات کی خبروں کو بھی مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ امریکا کے مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جبکہ وہ اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔
نیتن یاہو کے مطابق دونوں رہنما زیادہ تر معاملات پر متفق ہوتے ہیں اور اگر کسی مسئلے پر اختلاف بھی ہو تو اسے کھلے انداز میں زیرِ بحث لا کر حل کر لیا جاتا ہے۔
