علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین مکمل، مجتبیٰ خامنہ ای بدستور منظرِ عام سے غائب، ایران میں قیادت پر قیاس آرائیاں

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین جمعرات کو شمال مشرقی شہر مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے قریب مکمل کر دی گئی، جبکہ ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل عدم موجودگی نے ایرانی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کی تدفین ایک ہفتے تک جاری رہنے والی جنازے کی تقریبات، عوامی اجتماعات اور سوگ کی رسومات کے بعد انجام پائی۔ مشہد کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے شرکت کی، جہاں سوگوار ایرانی پرچم، سابق سپریم لیڈر کی تصاویر اور انقلابی نعرے درج بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق علی خامنہ ای کی میت کو تدفین سے قبل ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جایا گیا، جہاں تہران، قم، نجف اور کربلا سمیت کئی مقامات پر نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ان تقریبات میں مذہبی و سیاسی شخصیات نے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی تاکہ ریاستی نظام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جا سکے۔

دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای، جنہیں اپنے والد کی ہلاکت کے بعد نیا سپریم لیڈر مقرر کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاحال منظرِ عام پر نہیں آئے۔ رپورٹس کے مطابق وہ گزشتہ فروری میں ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور اب بھی زیرِ علاج ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے