امریکی سینیٹرز نے روس کے خلاف پابندیوں کے نئے بل کا مسودہ پیش کر دیا ہے، جس میں روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر مجوزہ 500 فیصد ٹیرف کو کم کرکے زیادہ سے زیادہ 100 فیصد تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس تبدیلی سے روسی خام تیل کے بڑے خریدار ممالک، بالخصوص چین اور بھارت کو نمایاں ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر زیادہ سے زیادہ 100 فیصد ٹیرف عائد کر سکیں۔ اس اقدام کا مقصد روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانا اور اسے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔
بل میں روسی حکام، روس کے مرکزی بینک، مالیاتی اداروں، روس کے مبینہ "شیڈو فلیٹ” ٹینکرز اور بڑے سرکاری توانائی منصوبوں، بشمول آرکٹک ایل این جی 1، 2 اور 3 پر بھی نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔
مجوزہ قانون میں ایک اہم استثنیٰ بھی رکھا گیا ہے، جس کے تحت وہ ممالک پابندیوں سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں جو روسی قدرتی گیس کی برآمدات کا 15 فیصد سے کم حصہ درآمد کرتے ہیں اور اپنی درآمدات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہوں۔ اس شق سے جاپان، فرانس، ہنگری اور بیلجیئم کو فائدہ پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق روس سے خام تیل خریدنے والے بڑے ممالک میں چین، بھارت، سلواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان شامل ہیں، جبکہ روسی قدرتی گیس کے نمایاں درآمد کنندگان میں چین، فرانس، جاپان، ہنگری اور بیلجیئم شامل ہیں۔
