پائیڈ نےمشرق وسطیٰ ریکوری مشن شروع کرنےکی تجویزدیدی ہے جبکہ رپورٹ میں خلیجی ممالک میں 1.5 ٹریلین ڈالر کے منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خلیجی ممالک کو برآمدات صرف 3.79 ارب ڈالر رہیں، 2025 میں 7 لاکھ 62 ہزار سے زائد پاکستانی بیرون ملک گئے، بیرون ملک جانے والے 61 فیصد پاکستانی غیر ہنر مند تھے۔
رپورٹ میں ہنر مند افرادی قوت کی سرٹیفکیشن اور رجسٹریشن کی تجویز جبکہ ایس آئی ایف سی کے تحت 5خصوصی ڈیسک قائم کرنےکی سفارش کی گئی ہے اور پاکستانی کمپنیوں کو تعمیرات،آئی ٹی اورصحت کے منصوبوں میں شامل کرنے پر زوردیا گیا ہے۔
پائید کی رپورٹ کے مطابق پاکستان صرف افرادی قوت نہیں، منصوبے بھی برآمد کرے، خلیجی ممالک میں پاکستانی کمپنیوں کیلئے نئے مواقع تلاش اور صرف مزدور بھیجنے کے بجائے ٹھیکے اور خدمات حاصل کی جائیں ۔
رپورٹ میں خلیجی کارکنوں کیلئے خصوصی ورکر آئی ڈی متعارف کرانے کی تجویز ، تارکین وطن کے تحفظ اورقانونی معاونت کا نظام مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے ۔
3سال میں 2 سے 4 ارب ڈالر اضافی زرمبادلہ حاصل ہونےکاامکان ہے ،5سال میں اضافی آمدن 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے، حکومت 90 روزہ عملی منصوبہ فوری نافذ کرے، پاکستان کو لیبر ایکسپورٹ کرنے والا نہیں،معاہدے برآمد کرنے والا ملک بننا ہو گا
